سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 55

سيرة النبي عمال 55 جلد 3 غموں کا ایک مرقع تھی ، جان کا ہیوں کی ایک نہ ٹوٹنے والی زنجیر تھی۔نبوت کا دعوی پیش کرنے کے بعد سے آپ دنیا کی نگاہوں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے لگے۔اپنے اور پرایوں کے حملوں کے ہدف بن گئے۔دنیا آپ کے دکھ دینے میں صرف لطف ہی محسوس نہیں کرتی تھی بلکہ وہ اسے ثواب دارین کا موجب خیال کرتی تھی۔مکہ کے لوگ ہی نہیں بلکہ عرب کے لوگ، مشرک ہی نہیں بلکہ یہود و نصاری بھی آپ کو اپنے مذہب اور اپنی قومیت کے لئے ایک خطرناک وجود سمجھتے تھے۔پس ہراک کی تلوار آپ کے خلاف اٹھ رہی تھی۔ہر اک کی زبان آپ کی ہتک عزت کے لئے دراز ہو رہی تھی۔ہراک کی آنکھ غصہ سے سرخ ہو ہو کر آپ پر پڑتی تھی۔جب عرب آپ کے ہاتھ پر فتح ہو گیا تو تب بھی آپ کو امن نہ ملا۔روم کی حکومت نے آپ کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔ایران کے بادشاہ نے آپ کے قتل کے احکام دیئے۔گھر کے دشمن منافقوں نے اندر ہی اندر ریشہ دوانیاں شروع کر دیں۔غرض دنیوی لحاظ سے ایک شعلہ مارنے والی قبائتھی جو آپ کے لئے تیار کی گئی تھی۔ایک گھڑی اور ایک ساعت راحت اور آرام کی آپ کے لئے میسر نہ تھی۔حتی کہ وفات کے وقت بھی آپ ایک بہت بڑے دشمن کے مقابلہ کے لئے ایک جرار لشکر کو بھیج رہے تھے۔ان مصائب اور ان آلام کے ہوتے ہوئے اور شخص ہوتا تو پاگل ہو جاتا مگر آپ بہادری سے ان مشکلات کا مقابلہ کر رہے تھے۔پس اگر عیاشی کے لئے نہیں تو غموں ہی کے کم کرنے کے لئے آپ شراب کی اجازت دے سکتے تھے۔مگر آپ نے شراب کو حرام اور قطعاً حرام کر دیا۔پس کون کہہ سکتا ہے کہ آپ کو غم نہ تھے اس لئے آپ نے شراب کو حرام کیا۔عمدہ کھانے پھر عیاش عمدہ کھانوں کا دلدادہ ہوتا ہے۔عیاش لذیذ سے لذیذ اور صلى الله مقوی سے مقوی کھانے کھاتے ہیں تا کہ شہوت پیدا ہو۔مگر محمد ملے کے گھر کا یہ حال تھا کہ جس دن آپ فوت ہوئے اُس دن شام کو آپ کے گھر فاقہ تھا۔بعض اوقات آپ کو بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھنا پڑا۔آپ کے پاس جو