سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 494

سيرة النبي علي 494 جلد 3 رسول کریم ﷺ کی سیرت کا سبق آموز واقعہ وو صلى الله حضرت مصلح موعود 17 فروری 1933 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :۔رسول کریم علیہ کے زمانہ میں وحشی ایک حبشی تھا۔اس نے اپنے کفر کے زمانہ الله میں ایک ایسی حرکت کی جس سے رسول کریم ﷺ کو سخت صدمہ پہنچا۔پھر کچھ مدت کے بعد وہ اسلام میں داخل ہو گیا۔اسلام بذات خود تمام گنا ہوں کو مٹا دیتا ہے۔مگر رسول کریم ﷺ نے اسے فرمایا تم میرے سامنے نہ آیا کرو 1۔وہ تو بہ کر چکا تھا گناہ اس کے معاف ہو چکے تھے پھر بھی اس کا ایک فعل اس پر ایسا داغ لگا چکا تھا جس کا مٹانا اس کے لئے زندگی میں قریباً ناممکن تھا۔رسول کریم ﷺ جانتے تھے کہ میرا فرض ہے کہ میں اس کے لئے دعائیں کروں لیکن ممکن ہے یہ میرے سامنے آ جائے اور اس کے آنے پر میری دعا میں روک واقع ہو جائے کیونکہ اس نے ایک عظیم الشان خادم اسلام 2 کو شہید کیا تھا۔“ الفضل 26 فروری 1933ء ) 1 بخاری کتاب المغازى باب قتل حمزة بن عبد المطلب صفحہ 689 حدیث نمبر 4072 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 2 حضرت حمزه (مرتب)