سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page v of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page v

بسم الله الرحمن الرحيم پیش لفظ آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ وجہ تخلیق کائنات تھی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے عرش معلی سے یہ اعلان فرمایا کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ ( الاحزاب : 22) کہ تمہارے لئے اللہ کے رسول کی ذات اور سیرت اسوہ حسنہ ہے۔نیز محبت الہی کے حصول کی شرط اتباع نبوی کے ساتھ مشروط کر دی۔جس ہستی کے بلندی اخلاق کی گواہی خدائے ذوالجلال نے دی اور اسے ہمارے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا اس عالی وجود کی سیرت کا بیان یقیناً محبت رسول کی علامت ہوگا کیونکہ آپ کی ذات صفات الہیہ کی مظہر اتم تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور آپ کے حسن و احسان کے تذکرے صحابہ کی سیرت کا نمایاں پہلو اور سیرت کا بیان عاشقان رسول کا خاصہ رہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آقا کی محبت اور عشق میں ڈوب کر آپ کی سیرت بیان فرمائی اور برملا یہ اعلان فرمایا که بعد از خدا بعشق محمد محمرم گر کفر این بود بخدا سخت کا فرم یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کے بعد میں عشق مصطفی میلہ میں دیوانہ ہو چکا ہوں۔اگر اس عشق اور دیوانگی کا نام کوئی کفر رکھتا ہے تو خدا کی قسم میں ایک سخت کا فرانسان ہوں۔عشق و محبت رسول کی جو لو آپ کے سینہ میں جل رہی تھی آپ نے اس کو اپنی اولاد