سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 489
سيرة النبي علي 489 جلد 3 رسول کریم علیہ کا راہ مولیٰ میں دکھ اٹھانا 30 دسمبر 1932ء کو بیت نور قادیان میں انجمن انصار اللہ کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔اگر اللہ تعالیٰ کے لئے گالیاں کھانا ذلت ہے تو نَعُوذُ بِاللهِ ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ نبی بھی اس سے حصہ پاتے رہے کیونکہ انبیاء کو ہمیشہ گالیاں دی جاتی رہیں۔پس گالیاں ذلت کا سامان نہیں بلکہ عزت کا باعث ہیں۔کوئی شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر گالیاں کھانے والا نہیں ہو سکتا۔آج تک رنگیلا رسول وغیرہ کتابیں جو شائع ہوئیں وہ انہی گالیوں کے سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔اگر گالیاں کھانا ذلت ہے تو کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے خدا نے ذلت کے سامان پیدا کئے ؟ نہیں بلکہ خدا کے لئے گالیاں کھانا عزت ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس عزت کا سب سے بڑھ کر سامان ہوتا رہا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کا کیا بگاڑا تھا جو انہیں لوگوں کی طرف سے گالیاں ملتیں۔آپ کا اگر کوئی جرم تھا تو یہی کہ آپ شیطان کے سب سے بڑے دشمن تھے۔پس وہ گالیاں گالیاں نہیں تھیں بلکہ اس بات کا اقرار تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے ایک نور لائے ہیں جسے اندھی دنیا 66 قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔پس وہ اپنے عناد کو گالیوں کی صورت میں ظاہر کرتی۔“ (الفضل 8 جنوری 1933ء )