سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 459

سيرة النبي عمال 459 جلد 3 صلى الله اور حضرت صفیہ کی شادی رسول کریم ﷺ سے ہوئی تو انہوں نے رسول کریم علی سے کہا مجھے پہلے ہی بتایا گیا تھا کہ میری شادی آپ سے ہو گی۔آپ نے فرمایا کس طرح ؟ انہوں نے کہا میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ چاند میری گود میں آگرا ہے۔اس کا ذکر میں نے اپنی ماں سے کیا تو اُس نے مجھے تھپڑ مارا اور کہا تو عرب کے بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہے 54۔پس چاند سے مراد مذہبی حکومت ہے اور سورج سے مراد د نیوی حکومت۔مطلب یہ تھا کہ رسول کریم ﷺ سے پہلے کے روحانی اور جسمانی دونوں نظام ٹوٹ جائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔دونوں سابقہ نظام رسول کریم ﷺ کی بعثت کے بعد ٹوٹ گئے۔روحانی طور پر سب فیض آپ کے سلسلہ کے بعد بند ہو گئے اور جسمانی طور پر آپ کے اتباع نے سب حکومتوں کو خواہ کسی ملک کی تھیں تباہ کر دیا اور دنیا کا نظام ہی بدل ڈالا۔بائبل کی اگلی آیت اسی کی تفسیر ہے۔گیارھویں پیشگوئی یہ کی گئی ہے کہ تو اپنی قوم کو رہائی دینے کے لئے ہاں اپنی ممسوح کو رہائی دینے کیلئے نکل چلا۔تو بنیاد کو گردن تک نگا کر کے شریر کے گھر کے سرکو کچل ڈالتا ہے۔تو نے اس کے سرداروں میں سے اُسے جو عالی درجہ کا تھا اُسی کے بھالوں سے مارڈالا۔وہ مجھے پراگندہ کرنے کیلئے آندھی کی طرح نکل آئے۔اُن کا فخر یہ تھا کہ مسکینوں کو ہم چپکے نکل جائیں۔" اس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ وہ موعود جنگ کے لئے نکلے گا تا کہ اپنی کمزور قوم کو ظالموں سے رہائی دلائے۔اور اس میں یہ بھی بتایا کہ دشمن بھی جنگ کیلئے نکلے گا کیونکہ لکھا ہے کہ وہ پراگندہ کرنے کیلئے آندھی کی طرح نکل آئے۔گویا ادھر سے یہ اور اُدھر سے وہ نکلیں گے اور دونوں کی مٹھ بھیڑ ہوگی۔دشمن چاہے گا کہ غریب اور کمزور ,, قوم کو دھوکا سے تباہ کر دے مگر وہ خود تباہ ہوگا اور موعود کامیاب ہوگا۔اب دیکھو کتنی تفصیل سے اس میں رسول کریم ﷺ کی زندگی کے حالات اور بدر کی جنگ کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔مکہ والے رسول کریم ہے کے مقابلہ کیلئے عتبہ کی