سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 444
سيرة النبي عليه 444 جلد 3 گو یا رسول کریم علیہ کے آنے کو حضرت مسیح نے خدا کا آنا بتایا۔اب ہم قرآن کریم میں دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ میں نے تجھے فرعون کیلئے خدا سا بنایا اسی طرح صلى الله رسول کریم ﷺ کے متعلق آتا ہے کہ اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا 17۔یعنی جس طرح ہم نے موسی کو فرعون کیلئے خدا سا بنا کر بھیجا تھا اسی حیثیت سے ہم نے تجھے دنیا کیلئے بھیجا ہے۔چوتھا نام آپ کا ابدیت کا باپ بتایا گیا ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے النَّبِيُّ أولى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُةٌ أُمَّهُتُهُمْ 18۔یعنی نبی کا تعلق مومنوں کے ساتھ باپوں سے بھی زیادہ ہے اور اس کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔جب رسول کریم ﷺ کی بیویاں مائیں ہوئیں تو رسول کریم ﷺ باپ ہوئے۔سورۃ احزاب کے پانچویں رکوع میں آتا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ 19۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم یوں تو کسی کے باپ نہیں لیکن روحانی باپ ہیں رسول ہونے کی وجہ سے اور ابدی باپ ہیں خاتم النبین ہونے کی وجہ سے۔پانچواں نام سلامتی کا شہزادہ بتایا گیا ہے۔عبرانی میں بادشاہ کی جگہ شہزادہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔اس کا اپنے الفاظ میں یہ مطلب ہوا کہ سلامتی کا بادشاہ۔اور سلامتی اسلام ہے اس لئے اصل نام یہ ہوا کہ اسلام کا بادشاہ۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ھو سَمَّكُمُ الْمُسْلِمِينَ 20۔یوں بھی رسول کریم ﷺ بادشاہ تھے۔فتح مکہ پر مکہ والوں کو آپ نے بلا کر کہا بتا ؤ اب تم سے کیا سلوک کیا جائے ؟ تو انہوں نے کہا آپ وہی سلوک کریں جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔اس پر آپ نے فرمایا لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ 21 - جاؤ تم پر کوئی گرفت نہیں۔اس طرح بھی آپ نے سلامتی ہی دکھائی۔