سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 422
سيرة النبي علي 422 جلد 3 تو عورت حقیر اور ذلیل خیال کی جائے گی اور اگر ملنے کی اجازت ہو تو یہ دونوں کی صحت کے لئے تباہ کن ہے اس لئے اسلام نے یہ تعلیم دی کہ هُوَ اذَّی و تکلیف کی چیز ہے۔اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے۔لیکن عورت ایسی ہی پاک ہے جیسے تم۔گویا ایک طرف تو علیحدگی کا حکم دیا تا قوتیں پھر نشو و نما پائیں اور دوسری طرف گند کے نقصانات سے آگاہ کر دیا۔پھر بہت سے فتنے اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ بعض مذاہب میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عورت کی روح اور ہے اور مرد کی اور بلکہ بعض عیسائیوں میں تو یہ خیال بھی ہے کہ عورت کی روح ہوتی ہی نہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا مِنْ اَنْفُسِكُمْ 10 ا جیسی روح تمہاری ہے ویسی عورتوں کی ہے۔اب دیکھو کیسی امن کی تعلیم ہے عام طور پر اس لئے لڑائی جھگڑا ہوتا ہے کہ مرد سمجھتے ہیں عورت میں حس ہوتی ہی نہیں اچھا کھانا، پہننا، سیر و تفریح سب اپنے لئے ہے۔ایسے لوگ عورت کو جب چاہیں مار پیٹ لیں گے اور بلا وجہ اپنی سیادت جتاتے رہیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ عورت میں حس نہیں۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے پنجاب میں تو عام طور پر عورت کو جوتی سمجھا جاتا ہے لیکن قرآن کریم نے بتایا کہ مِنْ اَنْفُسِكُمْ تم میں اور عورت میں کوئی فرق نہیں۔جس طرح بری بات تمہیں بری لگتی ہے اس طرح اس کو بھی بری محسوس ہوتی ہے اور اسے بھی تمہاری طرح ہی اچھی باتوں کی خواہش ہے۔یہ مضمون تو بہت لمبا ہے اور ابھی میں نے اس کا پہلا حصہ ہی بیان کیا ہے مگر چونکہ مغرب کا وقت ہو چکا ہے اس لئے اسے بند کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں توفیق دے کہ رسول کریم ﷺ کی اصلی شان کو دنیا میں پیش کرسکیں تا وہ لوگ بھی جو اس سے اس وقت دور ہیں قریب ہو جائیں اور ساری دنیا اس اخوت میں پروئی جائے جس کے لئے خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور وہ لڑائی جھگڑے دور ہو جائیں جنہوں نے ایک آدم کی اولا د کو دو کیمپوں میں تو