سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 411
سيرة النبي علي 411 ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما جلد 3 اور ایسا شخص جس کا دل عشق سے زندہ ہو وہ اپنے پیچھے ایسی باتیں چھوڑے گا جو صلى الله کبھی مٹ نہیں سکتیں۔پس رسول کریم ﷺ نے جو اصول الہاماً بتائے یا الہام سے استنباط کر کے بتائے ان کا استحکام عشق کے مطابق ہے اور عشق چونکہ غیر محدود استحکام رکھتا ہے اس لئے ان اصول کا استحکام بھی غیر محدود ہے اور چونکہ ان کی بنیاد عشق ہے اس لئے کہنا پڑے گا که اسلامی اصول کی بنیاد حکمت پر ہے۔مثلاً ایک شخص کہتا ہے سیدھے چلتے جاؤ وہاں تمہیں فلاں چیز ملے گی۔اب سیدھے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرف بھی انسان منہ کرے آگے سیدھا ہی ہوگا لیکن ایک اور شخص ہے جو ایک راستہ بتاتا ہے اور ساتھ ہی نقشہ دے دیتا ہے کہ اس کے مطابق چلے جاؤ اب اس پر عمل کرنے سے کامیابی ہوگی۔لیکن غیر معین بات کبھی کامرانی کا موجب نہیں ہو سکتی۔فرض کرو ایک جرنیل حکم دیتا ہے کہ بہر حال تم نے فلاں جگہ پہنچنا ہے لیکن ایک جرنیل ساتھ ہی مزید راہنمائی کیلئے یہ بھی بتا دیتا ہے کہ پیش آمدہ متوقع مشکلات پر کس طرح قابو پایا جائے نتیجہ یہ ہوگا کہ بہر حال پہنچنے کا حکم دینے والے کی فوج کو جہاں کوئی روک پیش آئے گی مشکل میں پڑ جائے گی لیکن دوسرے کو زیادہ کامیابی ہوگی کیونکہ اس کے احکام حکمت پر مبنی ہوں گے اور دوام ہمیشہ حکمت سے ہی حاصل ہوتا ہے۔پس یہ دونوں مضمون مشترک ہیں اس لئے میں تمدن کی بعض باتوں کو لے لیتا ہوں اور ان کے اندر ہی دوسری باتیں بھی آ جائیں گی۔تمدن کے معنی ہیں مدنیت، شہریت، چند آدمیوں کا مل کر رہنا۔جب چند آدمی مل کر رہیں تو کئی قسم کی دقتیں پیش آتی ہیں کیونکہ ہر شخص کی خواہشات دوسرے کے تابع نہیں ہوتیں اور بسا اوقات ٹکرا جاتی ہیں۔مثلاً ایک پھول ہے۔دو آدمیوں کی خواہش ہے کہ اسے حاصل کریں۔اب اگر وہ مل کر رہنا چاہتے ہیں تو کوئی ایسا قانون ہونا