سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 407

سيرة النبي علي 407 جلد 3 صلى الله خدا تعالیٰ کے عشق کو جانے دو کیونکہ وہ عام لوگوں کی رسائی سے بالا ہوتا ہے، انسانی عشق کو لے لو۔مجنوں کیا تھا؟ ایک عورت کا عاشق تھا۔اس کا عشق با غرض تھا وہ اس سے متمتع ہونا چاہتا تھا۔اس کے حسن سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔مگر اس کے مقابلہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کا عشق جو دنیا سے تھا وہ کسی فائدہ کی غرض سے نہ تھا تمتع کے خیال سے نہ تھا اور پھر وہ ایک دو سے نہیں، دوستوں اور پیاروں سے نہیں،حسینوں سے نہیں بلکہ سب سے تھا بلکہ بدصورتوں سے زیادہ تھا۔قرآن کریم میں آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ صلى الله فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ 2 اے محمد ! (ع) شاید تو اپنی جان کو ہلاک کر دے گا۔ان خوبصورتوں کے لئے نہیں جنہوں نے ابو بکر اور عمر کی طرح ایمان لا کر اپنے چہروں کو منور کر لیا تھا بلکہ ان بدصورت اور بھونڈی شکل کے لوگوں کے لئے جنہیں دیکھ کر گھن آتی تھی، جنہیں دیکھ کر روحانی شخص کو متلی ہو جاتی تھی جیسے عتبہ، شیبہ، ابو جہل وغیرہ تو ان کے عشق میں مرا جاتا ہے کہ کیوں ان کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔مجنوں کا عشق اس کے مقابلہ میں کیا ہے۔اس نے اس سے محبت کی صلى الله جس کی شکل اسے پسند تھی لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کا عشق ان لوگوں سے بھی تھا جن کی روحانی شکل آپ کو نا پسند تھی۔پس ایسا جذباتی انسان جس کا عشق کسی ایک سے نہیں ساری دنیا سے وابستہ ہے، آج ہی کے لوگوں سے نہیں بلکہ آئندہ زمانوں سے بھی ہے جیسا کہ فرمایا وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ یعنی محمد رسول الله علی صرف اپنے زمانہ کے لوگوں کو ہی فائدہ پہنچانا نہیں چاہتا بلکہ ان لوگوں کے لئے بھی جو ابھی پیدا نہیں ہوئے مفید بننا چاہتا ہے۔پس غور کرو جذباتی دنیا میں اس کا وجود کتنا عظیم الشان ہے اس کے عشق کی انتہا ہی نہیں۔وہ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی آگ سلگاتا ہے۔پھر اس سے آسمانوں کی طرف پرواز کرتا ہے اور اس کی روح خدا کے آستانہ پر جا گرتی ہے اور اس کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت سے چنگاری لیتی ہے گویا محدود محبت غیر محدود محبت کو