سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 382

سيرة النبي علي 382 جلد 3 إِذَا هَوَى مَاضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَاغَوَی 78 ہم نجم کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔مجھم اس بوٹی کو کہتے ہیں جس کی جڑ نہ ہو۔فرمایا ہم اس بوٹی کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جس کی جڑ نہیں ہوتی جب کہ وہ گر جاتی ہے۔یعنی وہ جتنا اونچا ہونا چاہتی ہے اسی قدر گرتی ہے۔اس شہادت سے تم سمجھ سکتے ہو کہ تمہارا یہ صاحب کبھی گمراہ نہیں ہوا اور نہ راستہ سے دور ہوا۔ضَل ظاہری گمراہی کے لئے آتا ہے اور اغوى باطنی فساد کے لئے جو فساد اعتقاد سے پیدا ہو۔فرمایا جو بے جڑ کی بوٹی ہواس پر تو جتنے زیادہ دن گزریں اس میں کمزوری آتی جاتی ہے۔اگر محمد رسول اللہ علیہ کا خدا سے تعلق نہ ہوتا تو اس کی جڑ مضبوط نہ ہوتی اور یہ کمزور ہوتا جاتا اور خرابی پیدا ہو جاتی۔مگر تم دیکھتے ہو کہ جوں جوں دن گزر رہے ہیں اسے زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل ہو رہی ہے اور یہ دن رات ظاہری اور باطنی طور پر ترقی حاصل کر رہا ہے۔اگر ضلالت اس کے اندر ہوتی تو اس پر ضلالت والا کلام نازل ہوتا۔مگر اس پر جو کلام نازل ہوا ہے اسے دیکھو کیا اس میں کوئی بھی ہوائے نفس کا نشان ملتا ہے؟ اگر یہ غاوی ہوتا تو شیطانی اثر اس کے کلام پر ہوتا۔لیکن اس کا کلام تو پُر شوکت اور قادرانہ کلام پر مشتمل ہے۔شیطانی تعلقات والا انسان دنیا پر تصرف کیسے حاصل کر سکتا ہے۔یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے سورۃ ضحی میں بیان کیا ہے فرماتا ہے وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لكَ مِنَ الأولى 79 تیری ہر پیچھے آنے والی گھڑی پہلی سے بہتر ہے۔اب کیا یہ عجیب بات نہیں کہ یہاں تو کہا کہ تیری ہر پچھلی گھڑی پہلی گھڑی سے اچھی ہوتی ہے لیکن اسی سورۃ میں کہہ دیا کہ تو گمراہ تھا۔آیا پچھلی گھڑی کا پہلی سے اچھی ہونا ضلالت کی دلیل ہوتا ہے؟ سورۃ ابراہیم رکوع 4 میں آتا ہے اَلَمْ تَرَكَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيْبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ 80 کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کیسی باتیں بیان کرتا ہے۔پاک کلمہ کی مثال ایک پاک درخت کی سی ہوتی