سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 381

سيرة النبي علي 381 جلد 3 الْأَرْضِ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ اَوْلِيَاء ُ يُضْعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ أُولَبِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ لَا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِي الْآخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُونَ 76 - یعنی لوگ کہتے ہیں کہ یہ نبی جھوٹ پیش کرتا ہے حالانکہ اس قسم کا جھوٹ بنانے والے تو خدا کے عذاب میں گرفتار ہوتے ہیں اور وہ عذاب سے ہر گز بچ نہیں سکتے۔ان کا عذاب لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جاتا ہے اور وہ سچی بات سننے کی بھی طاقت نہیں رکھتے کجا یہ کہ وہ سچی باتیں خود بنا سکیں۔وہ عذاب سے گھرے ہوئے ہوتے ہیں۔اور جب دنیا میں ان کا یہ حال ہوتا ہے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ قیامت میں ان کا کیا حال ہوگا۔صلى الله اس میں بتایا کہ مفتریوں کی تو یہ علامت ہوتی ہے کہ ان پر عذاب نازل ہوتا ہے مگر محمد رسول اللہ ﷺ پر تو کوئی عذاب نہیں آیا بلکہ خدا نے اس کی مدد کی ہے۔دوسری علامت مفتری کی یہ ہوتی ہے کہ اس کا عذاب بڑھتا جاتا ہے مگر اس رسول کی تو ہر گھڑی پہلی سے اچھی ہے۔(3) پھر مفتری کو اپنی تعلیم بدلنی پڑتی ہے مگر کیا اس نے بھی کبھی قرآن کی کوئی بات بدلی۔پھر یہ مفتری کس طرح ہو سکتا ہے۔وَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدی کا صحیح مفہوم دوسرا الزام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ لگایا گیا ہے کہ آپ نعوذ باللہ نبوت سے پہلے ضال تھے اور بعد میں بھی گناہ آپ سے سرزد ہوتے رہے۔ان الزامات کی بنا خود قرآن کریم ہی کی بعض آیات کو قرار دیا گیا ہے۔ضال کے متعلق تو یہ آیت پیش کی جاتی ہے کہ وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدَى 77 ہم نے تجھے ضال پایا پھر ہدایت دی۔اس کا جواب قرآن کریم کی ایک دوسری آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے ضلالت کی کلی طور پر نفی کر دی ہے۔فرماتا ہے وَالنَّجْمِ