سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 380

سيرة النبي عمال 380 جلد 3 پس قرآن کریم سے پہلی کوئی کتاب ایسی نہیں جس نے ساری دنیا کو دعوت دی ہو۔انہوں نے دوسری قوموں کیلئے رستے بند کر دیے۔حضرت مسیح کا انجیل میں یہ قول میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں موجود ہے کہ:۔بھیجا گیا ، 73۔اور یہ کہ:۔لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کو ڈال دینی اچھی نہیں 74۔گویا مسیح نے بنی اسرائیل کے سوا کسی اور کو ہدایت دینے سے انکار کر دیا۔مگر قرآن میں سب قوموں کے ماننے کے لئے خدا تعالیٰ نے سامان جمع کر دیئے۔مثلاً (1) سارے نبیوں کی تصدیق کی۔اس سے سب کے دلوں میں بشاشت پیدا کر دی۔لیکن اگر کوئی ہندو عیسائی ہو تو اسے یہ کہنا پڑتا ہے کہ بدھ اور کرشن جھوٹے ہیں۔اور اگر کوئی عیسائی ہندو ہو تو اسے حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام کو جھوٹا قرار دینا پڑتا ہے۔مگر کتنی خوبی کی بات ہے کہ قرآن نے کہہ دیا اِنَّا اَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ 75 ہم نے اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وسلم) تجھے حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے اور کوئی قوم ایسی نہیں جس میں ہماری طرف سے نذیر نہ بھیجا گیا ہو۔اس بنا پر رسول کریم ﷺ نے تمام اقوام سے کہہ دیا کہ مجھے قبول کر کے تمہیں اپنے بزرگوں کو جھوٹا کہنے کی ضرورت نہیں۔وہ بھی سچے تھے۔ہاں ان میں اور مجھ میں یہ فرق ہے کہ ان کی تعلیم اُس زمانہ کے لئے مکمل تھی جس میں وہ آئے لیکن میں جو تعلیم لایا ہوں یہ ہر زمانہ کے لئے مکمل ہے۔دوسری دلیل رسول کریم ﷺ کے مفتری نہ مفتری ہمیشہ نا کام ہوتا ہے ہونے کی قرآن کریم یہ بیان کرتا ہے کہ مفتریوں کا ذکر کرنے کے بعد فرماتا ہے اولیكَ لَمْ يَكُونُوا مُعْجِزِيْنَ فِي