سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 379
سيرة النبي علي 379 جلد 3 نبوت، انبیاء کی ضرورت، قضا و قدر، حشر و نشر ، جنت و دوزخ ، نماز و روزہ، حج و زکوۃ اور معاملات وغیرہ کے متعلق دلائل بیان کئے گئے ہیں یونہی دعوے نہیں کئے گئے۔مثلاً جنت کے متعلق آتا ہے وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتْنِ 70 ہم یہ نہیں کہتے کہ مرنے کے بعد تمہیں جنت ملے گی اور تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مرنے کے بعد کیا معلوم جنت ملے گی یا نہیں۔قرآن اسی دنیا میں جنت کا ثبوت پیش کرتا ہے اور مومنوں کو اسی دنیا میں جنت حاصل ہو جاتی ہے۔اس کا ثبوت یہ دیا کہ اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنْتُمْ تُوعَدُونَ 71 یعنی وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر استقامت سے اسلام کی تعلیم پر قائم رہتے ہیں ان پر فرشتے اترتے ہیں جو انہیں کہتے ہیں کہ تم غم نہ کرو تم کو جنت کی بشارت ہو۔گویا اسی دنیا میں انہیں خدا سے کلام کرنے کا شرف حاصل ہو جاتا ہے اور جب خدا کا کلام مل گیا تو ریب کہاں رہ گیا۔قرآن کریم کے ذریعہ صفت رَبُّ الْعَالَمِینَ کا ظہور پانچویں بات یہ بیان فرمائی کہ قرآن کریم کا اس حالت میں نزول ہوا کہ اس سے رَبُّ الْعَالَمِینَ کی صفت کا ظہور ہوتا ہے اس لئے کہ اس میں ہر فطرت کا لحاظ رکھا گیا ہے۔بعض انسانوں میں غصہ زیادہ ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ انہیں عفو کی طرف توجہ دلائی جائے۔بعض میں دیوٹی اور بے غیرتی ہوتی ہے انہیں غیرت کی تعلیم دی گئی۔انجیل نے اس کا خیال نہیں رکھا۔اس نے ہر حال میں عفو کی تعلیم دی ہے اور تورات نے عفو کا خیال نہیں رکھا ہر حالت میں سزا دینے پر زور دیا ہے۔مگر قرآن نے دونوں قسم کے لوگوں کا خیال رکھا ہے۔پھر ہر زمانہ کا خیال رکھا ہے اور تمام دنیا کو دعوت دی ہے۔چنانچہ فرمایا قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا 72۔کہہ دے اے لوگو! میں سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔