سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 378

سيرة النبي علي 378 جلد 3 تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے۔اور اگر کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا کر نہ لینا چاہے تو چوغہ بھی اسے لے لینے دے۔اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار لے جائے اس کے ساتھ دوکوس چلا جا 67۔مگر قرآن کریم نے کہا ہے وَجَزْؤُا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۚ فَمَنْ عَفَا ط وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ 68 - یعنی شرارت کے مطابق بدی کا بدلہ لے لینا تو جائز ہے لیکن جو شخص معاف کر دے اور اس میں دوسرے کی اصلاح مدنظر رکھے اللہ تعالیٰ اسے خود اجر دے گا۔اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔تو رات نے ایک حصہ تو بیان کیا تھا اور دوسرا چھوڑ دیا تھا اور انجیل نے دوسرا حصہ بیان کیا اور پہلا حصہ چھوڑ دیا۔قرآن کریم نے اس تعلیم کو مکمل کر دیا۔فرمایا بدی کا بدلہ لے لینا جائز ہے لیکن جو شخص معاف کر دے ایسی صورت میں کہ بدی نہ بڑھے اس کا اجر اللہ پر ہے۔ہاں جو ایسے طور پر معاف کرے کہ معافی دینے پر ظلم بڑھ جائے تو اس سے خدا ناراض ہوگا کیونکہ وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔صدقہ و خیرات اور مرد وعورت کے تعلقات کے متعلق تفصیلی احکام گزشتہ سال کے مضمون میں بیان کر چکا ہوں اور بتا چکا ہوں کہ پہلی کتب میں ان امور کے متعلق صرف مختصر احکام دیئے گئے ہیں مگر قرآن کریم نے ہر ایک حکم کی غرض اور اس کے استعمال کی حدود وغیرہ تفصیل سے بیان کی ہیں۔قرآن کریم کی چوتھی خصوصیت یہ بیان کی دلائل و براہین سے مزین کلام کہ لَا رَيْبَ فِيهِ 69 ہر ایک امر کو دلیل سے بیان کرتا ہے اور شک کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔شک ہمیشہ ابہام سے پیدا ہوتا ہے مگر قرآن کریم کے دعوؤں کی بنیاد مشاہدہ پر ہے۔قرآن میں ہستی باری تعالیٰ ، ملائکہ، دعا،