سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 377
سيرة النبي علي 377 جلد 3 یہ فرمائی تھی کہ وہ نبی ایسی تعلیم لائے گا جو پہلے کوئی نہیں لایا۔قرآن کریم اس کے متعلق فرماتا ہے عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ 62 یعنی قرآن کریم کے ذریعہ وہ وہ باتیں سکھائی گئی ہیں جو کسی اور کو معلوم نہیں۔دوسری بات حضرت مسیح نے یہ بیان کی تھی کہ وہ ساری باتیں بتائے گا۔قرآن کریم میں اس کے متعلق آتا ہے۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ 63 آج سارا دین تم پر مکمل کر دیا گیا ہے۔پھر سورۃ کہف رکوع 8 میں آتا ہے وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ 64 ہم نے اس قرآن میں ہر ضروری بات کو مختلف پیرایوں میں بیان کر دیا ہے۔تیسری بات حضرت مسیح نے یہ بتائی تھی کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا بلکہ خدا تعالیٰ اسے جو کچھ بتائے گا اسے پیش کرے گا۔قرآن کریم میں بھی آتا ہے وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى اِنْ هُوَ إِلَّا وَخى تولى 65 - یہ رسول اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ خدا ہی کا کلام پیش کرتا ہے۔باقی سب کتابوں میں انبیاء کی اپنی باتیں بھی ہیں صرف قرآن ہی ایک ایسا کلام ہے جو سارے کا سارا خدا کا کلام ہے۔پانچویں بات حضرت مسیح نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ نبی ان الزامات کو دور کرے گا جو مجھ پر لگائے جاتے ہیں۔اس کے متعلق سب لوگ جانتے ہیں کہ حضرت مسیح کو نعوذ باللہ ولد الزنا کہا گیا تھا اور لعنتی قرار دیا گیا تھا قرآن نے ان الزامات کی پوری تردید کی۔کتب سماویہ کی تفصیل اب میں تیسری بات بیان کرتا ہوں کہ قرآن کریم کتب سماویہ کی تشریح اور تفصیل بیان کرنے والا ہے۔اس میں علوم روحانیہ کو کھول کر بیان کیا گیا ہے اور انہیں کمال تک پہنچایا گیا ہے۔میں اس کی ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔تو رات میں لکھا تھا:۔تیری آنکھ مروت نہ کرے کہ جان کا بدلہ جان ، آنکھ کا بدلہ آنکھ ، دانت کا بدلہ دانت، ہاتھ کا بدلہ ہاتھ اور پاؤں کا بدلہ پاؤں ہو گا 66 اور انجیل میں یہ تعلیم دی گئی تھی کہ :۔