سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 371
سيرة النبي علي 371 جلد 3 قرآن کریم کے متعلق پانچ دعوے اس آیت میں پانچ دعوے قرآن کریم کے متعلق پیش کئے گئے ہیں۔اول یہ کہ قرآن اپنی دلیل آپ ہے اور اسے خدا کے سوا کوئی بنا ہی نہیں سکتا۔اس میں ایسے امور ہیں جو انسان کے اختیار سے باہر ہیں یعنی امور غیبیہ۔فرماتا ہے قُل لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا الله 49 کہ آسمان اور زمین میں خدا کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔مطلب یہ کہ قرآن میں غیب کی باتیں ہیں اور یہ خدا کے سوا کوئی نہیں بتا سکتا۔دوسرا دعویٰ یہ کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ پہلی کتابوں کی پیشگوئیاں پوری ہوتی ہیں۔تیسرا یہ کہ اس میں پہلی کتابوں کی تشریح ہے۔چوتھا یہ کہ ہر امر کو دلیل کے ساتھ ایسے رنگ میں بیان کرتا ہے کہ اس کے درست ہونے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا۔پانچواں یہ کہ قرآن خدا کی صفت رب العالمین کے ماتحت نازل ہوا ہے تا کہ اس کا فیضان سب قوموں کیلئے وسیع ہو۔فرماتا ہے اگر قرآن افترا ہے تو ان پانچ صفات والی کوئی سورۃ پیش کرو۔اگر ان صفات والی سورۃ لے آؤ گے تو ہم مان لیں گے کہ انسان ایسی کتاب بنا سکتا ہے۔لیکن اگر تم سارے مل کر بھی نہ بنا سکو تو معلوم ہوا کہ ایسی کتاب کوئی انسان نہیں بنا سکتا۔اس سے معلوم ہوا کہ جس سورۃ (یونس ) میں یہ دعوے کئے گئے ہیں اس سے پہلے جس قدر قرآن اتر چکا تھا اس میں یہ پانچ باتیں پائی جاتی تھیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا قرآن کے اس حصہ میں یہ پانچوں باتیں ہیں؟ اگر ہیں تو ثابت ہو جائے گا کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔پہلی بات یہ بیان فرمائی کہ قرآن میں وہ باتیں ہیں جو خدا کے سوا کوئی نہیں علم غیب جانتا۔یعنی قرآن میں علم غیب ہے۔اس کے لئے جب ہم قرآن کریم