سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 366

سيرة النبي عمال 366 جلد 3 آخر کار مسلمان ہو گیا تھا۔عبداللہ بن ابی سرح نے مرتد ہونے پر اس کا راز کفار کو بتا دیا صلى الله تھا اور وہ اسے سخت تکالیف دیتے تھے۔آخر فتح مکہ پر آنحضرت علی نے روپیہ دے کر اسے آزاد کروا دیا۔اس سے جب پوچھا گیا تو اس نے کہا میں نہیں سکھا تا بلکہ وہ مجھے سکھاتے تھے۔آٹھواں اعتراض آٹھواں اعتراض یہ تھا کہ اس کے ساتھ شیطان کا تعلق ہے اور اس کی طرف سے اسے کلام حاصل ہوتا ہے۔اور گو کفار کا کوئی قول اس اعتراض کے متعلق نقل نہیں کیا گیا مگر اس اعتراض کے اشارے ضرور پائے جاتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيْطِيْنُ 37 شيطان اس کلام کو لے کر نہیں اترے۔اسی طرح فرماتا ہے وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَنٍ رَّجِيهِ 38 یہ شیطان رجیم کا قول نہیں ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کا یہ بھی اعتراض تھا کہ اس پر شیطان اترتا ہے۔افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس اعتراض کو اور پکا کر دیا ہے اور کفار کے ہاتھ میں ایک ہتھیار دے دیا ہے۔وہ اس طرح کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کفار مکہ کے سردار جمع ہو کر رسول کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کے پاس ادنی درجہ کے لوگ آتے ہیں اور بڑے لوگ آپ کی باتیں نہیں سنتے۔اگر آپ دین میں کچھ نرمی کر دیں تو ہم لوگ آپ کے پاس آ کر بیٹھا کریں اس طرح دوسرے لوگ بھی آپ کے پاس آنے لگیں گے۔اس پر رسول کریم عیے کو خیال آیا کہ اگر ایسا کر دیا جائے تو پھر بڑے بڑے لوگ مان لیں گے۔( مجھے کیا ہی لطف آیا اس شخص کے اس فقرہ سے جس کا نام نولڈ کے ہے ) وہ لکھتا ہے ” معلوم ہوتا ہے یہ روایت بنانے والے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اپنے جیسا ہی بیوقوف سمجھتے تھے ، غرض رسول کریم ﷺ کو نعوذ باللہ دین میں نرمی کرنے کا خیال آیا۔اتنے میں آپ نماز پڑھنے لگے اور سورۃ نجم پڑھنی شروع کی۔اُس وقت شیطان ن أَفَرَيْتُمُ اللتَ وَالْعُزَّى وَمَنَوةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرى 39 کے بعد یہ کلمات عروس