سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 365
سيرة النبي عمال 365 جلد 3 اس کا جواب اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے کہ دوسرے کا قول انسان دو طرح نقل کر سکتا ہے۔ایک تو اس طرح کہ اس کا مطلب سمجھ کر اپنے الفاظ میں ادا کر دے اور دوسرا طریق یہ ہے کہ اس کے الفاظ رٹ کر ادا کر دے۔جیسے طوطا میاں مٹھو کہتا ہے۔نقل انہی دو طریق سے ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم جانتے ہو کہ جس شخص کی طرف تم یہ بات منسوب کرتے ہو وہ اپنا مطلب عربی زبان میں پوری طرح ادا نہیں کر سکتا۔پس جب وہ مطلب ہی بیان نہیں کر سکتا تو وہ رسول کریم ﷺ کو مضامین کس طرح سمجھاتا ہے کہ وہ عربی میں اس کو بیان کر دیتے ہیں۔یہ جواب ہے آدھے حصے کا۔دوسری صورت یہ ہوسکتی تھی کہ اس کے قول کو نقل کیا جاتا۔مگر یہ کس طرح ہوسکتا تھا۔وہ تو عبرانی میں کہتا تھا اور اس کی بات اگر دہرائی جاتی تو عبرانی میں ہوتی۔مگر قرآن تو عبرانی یا یونانی میں نہیں جس میں تو ارت یا انجیل لکھی ہوئی ہیں بلکہ عربی میں ہے۔پس جب نہ وہ شخص اپنا مطلب عربی میں ادا کر سکتا ہے نہ قرآن کسی دوسری زبان کی نقل ہے تو اس کی طرف یہ کتاب کس طرح منسوب کی جاسکتی ہے۔یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ اُس وقت تک تو رات اور انجیل کا کوئی ترجمہ عربی زبان میں نہیں ہوا تھا۔چنانچہ تاریخوں سے ثابت ہے کہ بعض صحابہ کو عبرانی اس لئے پڑھوائی گئی کہ وہ تورات وانجیل پڑھ سکیں۔دوسرا ثبوت اس کا یہ ہے کہ مفسرین دنیا بھر کے علوم کا ذکر تفسیروں میں کرتے ہیں مگر جب بائبل کا حوالہ دیتے ہیں تو بالعموم غلط دیتے ہیں۔جس کی وجہ یہی تھی کہ عربی میں بائبل نہ تھی وہ سن سنا کر لکھتے اس لئے غلط ہوتا۔تیسرا ثبوت یہ ہے کہ بخاری میں ورقہ بن نوفل کے متعلق لکھا ہے کہ گان يَكْتُبُ الكِتب بِالْعِبْرَانِي 36 وہ عبرانی میں تو رات لکھا کرتے تھے۔گویا اُس وقت توریت اور انجیل عربی میں نہ تھی۔پس یقیناً وہ غلام عبرانی یا یونانی میں انجیل پڑھتا تھا اور عربی میں اس کا مفہوم بیان نہ کر سکتا تھا۔اس طرح اس اعتراض کو رد کر دیا گیا۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کہ جبیر نے کہا تھا کہ بَلْ هُوَ يُعَلِّمُنِی۔جبیر