سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 361
سيرة النبي علي 361 جلد 3 سوال یہ ہے کہ کیا قرآن کے دوسرے جواب بھی ایسے ہی بودے ہوتے ہیں۔اگر قرآن کی دوسری باتیں ارفع اور اعلیٰ ہیں تو ہمیں سوچنا چاہئے کہ یہ جواب بھی ضرور اعلیٰ ہوگا اور جو مطلب ہم سمجھتے ہیں وہ غلط ہوگا۔دوسرے اگر یہ جواب بے جوڑ تھا تو کیوں مکہ والوں نے اسے رد نہ کر دیا اور کیوں وہیری والا جواب انہوں نے نہ دیا۔ان کا تو اپنا اعتراض تھا اور وہ اپنے اعتراض کا مطلب وہیری وغیرہ سے بہتر سمجھتے تھے۔وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ تو بے معنی جواب ہے۔مگر کسی ضعیف سے ضعیف روایت میں بھی یہ نہیں آتا کہ مکہ والوں نے کہا ہو یہ جواب بے جوڑ ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا جو۔اعتراض تھا اس کا جواب انہیں صحیح اور مسکت مل گیا تھا اسی لئے وہ خاموش ہو گئے۔اب رہا یہ امر کہ اچھا پھر سوال و جواب کا مطلب کیا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصل میں کفار کا سوال ایک نہ تھا بلکہ دو تھے اور ان سوالوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی قرآنی جواب کو بے جوڑ قرار دے دیا گیا ہے۔ان میں سے ایک کا ذکر سورۃ نحل میں ہے اور دوسرے کا سورۃ فرقان میں۔سورۃ محل کا وہ سوال نہیں جو سورۃ فرقان کا ہے اور سورۃ فرقان میں وہ نہیں جو سورۃ نحل میں ہے۔چنانچہ سورۃ نحل میں یہ اعتراض نقل ہے کہ ایک عجمی شخص آپ کو سکھاتا ہے۔قرآن کریم نے اس کا نام نہیں لیا مگر یہ کہا ہے کہ لِسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ اِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ 34 کہ وہ جس کی طرف قرآن کو منسوب کرتے ہیں وہ مجھی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالف کسی خاص شخص کا نام لیتے تھے۔پھر یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ وہ شخص معروف تھا اور مسلمان بھی اس شخص کا نام جانتے تھے۔سورۃ فرقان کی آیت اس سے مختلف ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ کفار کسی خاص آدمی کا نام لئے بغیر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایک جماعت رسول کریم ع کو سکھاتی صلى الله ہے اور رات دن آپ کے پاس رہتی ہے اور آپ بعض دوسرے لوگوں سے اس جماعت کے بتائے ہوئے واقعات کو لکھوا لیتے ہیں۔یہ فرق نمایاں ہے۔ایک میں ایک خاص شخص کا ذکر ہے اور دوسری میں غیر معین