سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 360

سيرة النبي علي شریعت آتی ہے۔360 جلد 3 b چوتھی زرعیسائیت پر یہ کی کہ فرمایا كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى - اَنْ رَّاهُ اسْتَغْنَى انسان بڑا ہی سرکش ہے جو یہ کہتا ہے کہ مجھے خدا کی شریعت کی ضرورت نہیں میں خود اپنی راہ نمائی کے سامان مہیا کرلوں گا۔یہ کہنے والے بہت نا معقول لوگ ہیں۔پانچواں رد یہ کیا کہ فرمایا كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ۔ایسے لوگوں کی باتیں کبھی نہ سنا اور اللہ کی خوب عبادت اور فرمانبرداری کرنا۔رسول کریم ﷺ کو فرمایا کہ کسی راہب کی بات نہ سننا جو شریعت کو لعنت قرار دیتا ہے بلکہ خدا کی فرمانبرداری میں لگا رہ۔گویا نجات اور قرب الہی کا ذریعہ بجائے کسی کفارہ پر ایمان لانے کے سجدہ یعنی فرمانبرداری یا بالفاظ دیگر اسلام کو قرار دیا ہے۔پس قرآن کی تو پہلی سورۃ نے ہی مسیحیت کو رد کیا ہے اور بادلیل رد کیا ہے۔اسی طرح سورۃ فاتحہ میں عیسائیت اور یہودیت کو رد کیا گیا ہے۔پھر کیا کوئی شخص مان سکتا ہے کہ عیسائی اور یہودی اپنے مذہب کے خلاف خود دلائل بتایا کرتے تھے؟ دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔یا تو عیسائی راہب اپنے مذہب کو ماننے والا ہوگا یا نہ ماننے والا۔اگر ماننے والا تھا تو اسے چاہئے تھا کہ اپنے مذہب کی تائید کرتا نہ کہ اس کے خلاف با تیں بتا تا۔اور اگر نہ ماننے والا تھا اور سمجھتا تھا کہ جو باتیں اس کے ذہن میں آئی ہیں وہ اعلیٰ درجہ کی ہیں تو اس نے ان کو خود اپنی طرف منسوب کر کے کیوں نہ پیش کیا۔اسے چاہئے تھا کہ اپنے نام پر کتاب لکھتا نہ کہ لکھ کر دوسرے کو دے دیتا۔اب میں ان آیتوں اور ان میں مذکور جوابات کو لیتا ہوں۔سورۃ نحل کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کا اعتراض یہ تھا کہ اسے کوئی اور آدمی سکھاتا ہے۔اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ وہ شخص تو عجمی ہے اور قرآن کی زبان عربی ہے۔و ہیری کہتا ہے کہ یہ جواب بالکل بودا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا کالا ہے۔مضمون وہ عجمی بنا کر دیتا تھا آگے عربی میں وہ خود ڈھال لیتے تھے۔لیکن