سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 334

سيرة النبي علي 334 جلد 3 اللہ تعالیٰ کے لئے غیرت حضرت مصلح موعود 20 نومبر 1931ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :۔صلى الله پس مخلوق پر ثابت کرو کہ تم بزدل نہیں ہو۔جنگ احد کے موقع پر رسول کریم علی صحابہ کو لے کر ایک محفوظ مقام پر بیٹھے تھے کہ ابوسفیان نے پکارا کیا تم میں محمد علی ہے؟ آپ نے فرمایا جواب مت دو۔پھر اس نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرہ کا نام لیا مگر آپ نے فرمایا جواب مت دو۔اس پر اس نے خیال کیا کہ یہ سب مارے گئے اور کہنے لگا اُشلُ هبل اسے سن کر آپ ضبط نہ کر سکے اور فرمایا اب بولو اللهُ أَعْلَی وَ أَجَلُّ 1 اپنے نفسوں کی صلى الله خاطر تو ضبط سے کام لیا مگر جونہی خدا کا نام آیا آپ ﷺے خاموش نہ رہ سکے۔یورپین مصنف یہ تو لکھتے ہیں کہ آپ پہلے اس وجہ سے نہ بولتے تھے کہ خطرہ تھا مگر آگے یہ نہیں کہتے کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر آپ ع کی غیرت نے کیوں خاموشی گوارہ نہ کی۔دشمن خطرہ سے بچنے کے لئے غیرت کا ذکر نہیں کرتا اور یہ نہیں کہتا کہ خدا کا نام جب سنا تو سب خطرات کو آپ نے فراموش کر دیا۔“ ( الفضل 26 نومبر 1931ء) 1: بخارى كتاب المغازى باب غزوة احمد صفحہ 685،684 حدیث نمبر 4043 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية