سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 323
سيرة النبي علي 323 جلد 3 مسلمانوں سے صلح کر لینی چاہئے یا جنگ۔ان کے سردار نے اپنے ساتھیوں سے کہا میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ نبی ہیں یا بادشاہ۔اس نے دیکھا کہ ایک بڑھیا آئی اور آپ کو اپنے ساتھ علیحدہ لے جا کر کھڑی ہو گئی اور دیر تک باتیں کرتی رہی آپ اس کے پاس کھڑے رہے۔اس سردار نے اپنے ساتھیوں سے کہا یہ شخص بادشاہ نہیں نبی ہے۔دوسری قوم کے سفراء پاس بیٹھے ہیں مگر آپ اس وقت تک پوری توجہ سے ایک بڑھیا کی باتیں سنتے رہے جب تک وہ خود نہ چلی گئی۔پھر بڑے لوگوں نے بھی آپ سے باتیں کیں مگر ان سے بھی اعلیٰ نمونہ پیش کیا 20۔کسری نے اپنے گورنر کو کہلا بھیجا کہ اس شخص کو پکڑ کر میرے پاس بھیج دواس نے اپنے آدمی آپ کے پاس بھیجے۔انہوں نے آ کر آپ سے کہا کہ آپ چلیں ہم کوشش کریں گے کہ آپ کی جان بخشی ہو جائے مگر انکار سخت نقصان کا موجب ہو گا۔کسری اُس وقت آدھی دنیا کا بادشاہ ہے اور وہ عرب کو تباہ کر دے گا۔آپ نے جواب کے لئے ایک دن مقرر کیا اور جب مقررہ وقت پر وہ جواب کے لئے آئے تو آپ نے فرمایا جا کر اپنے گورنر سے کہہ دو کہ میرے خدا نے تمہارے خداوند کو مار ڈالا ہے۔انہوں نے کہا اچھا ہم دیکھیں گے اگر آپ کی بات سچی ہوئی تو آپ بیشک نبی ہیں۔چند روز کے بعد ایران سے ایک جہاز آیا جس میں گورنر کے نام ایک خط تھا جس پر نئی مہر تھی۔وہ حیران ہوا کہ کیا معاملہ ہے۔کھولا تو اس میں لکھا تھا اپنے باپ کے ظلموں سے تنگ آ کر ہم نے اسے قتل کر دیا ہے۔اس نے عرب کے ایک شخص کے متعلق ایسا ظالمانہ حکم دیا تھا اسے بھی منسوخ سمجھو 21۔غور کرو کہ غریب بڑھیا سے تو وہ معاملہ ہے اور کسری جیسے جابر بادشاہ سے یہ کہ جا کر کہہ دو ہم تمہاری بات نہیں مانتے۔غیر قوموں کے لوگوں سے سلوک یہ ہے کہ سلمان فارسی آتے ہیں اور غیر لوگوں میں ہونے کی وجہ سے اجنبیت محسوس کرتے ہیں۔آپ ان کی دلجوئی کا اس حد تک خیال رکھتے ہیں کہ فرماتے ہیں سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ 22 سلمان