سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 313

سيرة النبي عمال 313 جلد 3 نہ صرف یہ کہ باپ کی محبت کو ابو طالب کے متعلق قائم رکھا بلکہ تعلیم دی کہ ماں باپ کو اف کا کلمہ بھی نہ کہو۔یہی وہ سلوک ہے جو آپ نے اپنے چچا سے کیا۔نبوت پر فائز ہونے کے بعد آپ کی زندگی کا ایک عجیب واقعہ ہے۔مکہ کی مخالفت انتہا پر پہنچ گئی ہے، رؤسائے قریش نے ابوطالب کو دھمکی دی ہے کہ اگر تم نے محمد کو نہ روکا تو تمہیں بھی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ابوطالب اس دھمکی سے گھبرا گئے۔جب رسول کریم ﷺے گھر آئے تو انہوں نے بلا کر کہا بیٹا ! ملکہ کے رئیس اس طرح کہتے ہیں کیا یہ ممکن نہیں کہ کوئی ایسی پالیسی اختیار کر لو جس سے ان کی بھی دلجوئی ہو جائے۔میں سمجھتا ہوں آنحضرت ﷺ کی افسردگی کی گھڑیوں میں سے یہ سخت ترین گھڑی تھی۔ایک طرف وہ شخص تھا جس نے نہایت محبت سے پالا تھا اور جس کے پاؤں میں کانٹا لگنا بھی آپ گوارا نہ کر سکتے تھے اسے ساری قوم ذلیل کرنے اور نقصان پہنچانے کی دھمکی دے رہی تھی۔دوسری طرف خدا تعالیٰ کی صداقت کا اظہار تھا۔آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور آپ نے کہا چچا! میں ساری تکالیف برداشت کرلوں گا مگر خدا کا پیغام پہنچانے سے نہیں رہ سکتا۔ابو طالب اس بات سے بخوبی واقف تھے اور وہ جانتے تھے کہ اس راہ میں اگر آپ کو اپنے خون کا آخری قطرہ بھی گرانا پڑے تو آپ اس سے دریغ نہ کریں گے۔انہوں نے آپ کا جواب سن کر کہا جا! جو تجھے خدا نے کہا ہے لوگوں کو پہنچا میں تیرے ساتھ ہوں۔یہ وہ بہترین نمونہ ہے جو حالت یتیمی میں آپ نے دکھایا۔اور اس سے بہتر نمونہ کیا کوئی دکھلا سکتا ہے۔اس کے بعد آپ جوان ہوئے۔لوگ اس عمر میں کیا کچھ نہیں کرتے۔عرب میں اس وقت کوئی قانون نہ تھا۔کوئی اخلاقی ضابطہ نہ تھا۔لوگ اس پر فخر کرتے تھے کہ ہمارا فلاں کی عورت یا لڑکی سے ناجائز تعلق ہے۔ان حالات میں رہنے والے نو جوانوں سے کوئی شخص اعلیٰ اخلاق کی توقع ہی نہیں کر سکتا۔مگر آپ نے ایسی گندی فضا کے باوجود جوانی میں ایسا اعلیٰ نمونہ دکھایا کہ لوگ آپ کو امین اور صدوق کہتے تھے۔یہ کہنا