سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 312
سيرة النبي علي 312 جلد 3 حالت میں اعلیٰ و اکمل نمونہ دکھا یا۔سب سے پہلے میں آپ کی پہلی زندگی کو لیتا ہوں۔آپ پر یتیمی کی حالت گزری، آپ کے والد پیدائش سے قبل ہی فوت ہو چکے تھے اور بہت چھوٹی عمر میں والدہ کا بھی انتقال ہو گیا مگر دادا کی زیر نگرانی جو باپ کا قائمقام تھا آپ نے بتا دیا کہ اخلاق کیسے ہونے چاہئیں۔یتیم کی حالت دو قسم کی ہوتی ہے یا تو بچہ بہت ہی سر چڑھ جاتا ہے یا بہت ہی پڑ مردہ۔اگر اس کے نگران ایسے لوگ ہوں جو اس کی دلجوئی کے خیال سے ہر وقت لاڈ ہی کرتے رہیں تو اس کی اخلاقی حالت بہت گر جاتی ہے اور اگر وہ ایسے لوگوں کی تربیت میں ہو جو سمجھیں کہ ہمارا بچہ تو یہ ہے نہیں اور وہ تشدد کریں تو یتیم کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔مگر بچپن میں ہی رسول کریم ﷺ کا نمونہ ایسا تھا کہ آپ کے ہمجولی بیان کرتے ہیں گھر میں کسی چیز کیلئے آپ چھینا جھپٹی نہ کرتے تھے بلکہ وقار کے ساتھ اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے تھے حتی کہ بچی خود بلا کر آپ کا حصہ دیتیں پھر آپ وقار کے ساتھ ہی اس کا استعمال کرتے۔آپ کی رضاعی والدہ کا بیان ہے کہ آپ میں ایسی سعادت تھی کہ بچے بھی حیران رہ جاتے تھے۔رضاعی بھائی بیان کرتے ہیں آپ لغو کھیلیں نہ کھیلتے ، مذاق کر لیتے تھے مگر جھوٹی باتوں سے سخت نفرت تھی۔اس زمانہ میں ایسی ہمدردی آپ میں تھی کہ چھوٹے بچے بھی آپ کو اپنا سردار مجھتے تھے غرضیکہ آپ کی بچپن کی زندگی ایسی پاکیزہ تھی کہ یورپ کے متعصب لوگ بھی لکھتے ہیں اس زندگی کا ایسا غیر معمولی ہونا ثابت کرتا ہے کہ آپ مجنون تھے۔گویا یہ نئی بات انہوں نے دریافت کی ہے کہ جس بچے کے اخلاق اچھے ہوں ، عادات و خصائل عمدہ ہوں وہ مجنون ہوتا ہے۔آپ والدین سے بہت محبت کا معاملہ کرتے تھے۔جس قسم کا حسن سلوک آپ نے ابوطالب اور ان کی بیوی سے کیا ہے اس کی نظیر اس کے سگے بیٹوں میں بھی نہیں ملتی۔فتح مکہ کے بعد لوگوں نے دریافت کیا کہ آپ کس مکان میں ٹھہریں گے؟ آپ نے بغیر کسی قسم کے غصہ کے فرمایا عقیل نے کوئی مکان باقی چھوڑا ہے کہ اس میں ٹھہریں۔یعنی چا زاد بھائیوں نے سب بیچ دیئے ہیں۔آپ نے