سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 311
سيرة النبي عمال 311 جلد 3 : صلى الله ہی ہوسکتا ہے اگر چہ اس میں شبہ نہیں کہ اس کی اور ہماری طاقتوں میں تفاوت ہوتا ہے۔تو رسول کریم ﷺ کی ایک اور صفت اس آیت میں یہ بیان کی گئی کہ آپ مِنْكُمُ ہیں یعنی انسانوں میں سے ہیں۔خدا تعالیٰ بھی قرآن میں فرماتا ہے کہ کہہ دے اَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ 5 جس کا یہ مطلب ہے کہ تم جن حالات سے فرداً فرداً گزرتے ہو محمد رسول اللہ ﷺ ایسا کامل نمونہ ہے کہ ان سب سے گزر کر تمہاری راہنمائی کر رہا ہے۔اس میں باقی انبیاء سے آپ کی شان بالا نظر آتی ہے۔ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ایک اعلیٰ درجہ کے نبی تھے لیکن یہ نہیں کہ آپ ہر زمانہ اور ہر قسم کے لوگوں کیلئے نمونہ تھے۔مثلاً آپ کی شادی ثابت نہیں اس لئے شادی شدہ لوگوں کی متاہلانہ زندگی میں آپ کوئی راہنمائی نہیں کر سکتے۔آپ بادشاہ نہیں ہوئے کہ آج بادشاہ کہہ سکیں مسیح ہمارے لئے بھی نمونہ ہے۔مگر اَنْفُسِكُمْ میں غریب، امیر ، بادشاہ ، رعایا ، مظلوم سب شامل ہیں اور یہ سب کے لئے بولا جا سکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے دنیا کی قو مو! تم خواہ کسی پیشہ، کسی مقام اور کسی درجہ کی حالت میں ہو، کوئی جماعت ایسی نہیں کہ جس کے حالات سے محمد رسول اللہ اللہ نہ گزرا ہو۔بادشاہ، غریب، طاقتور، مظلوم، شادی شده، صاحب اولاد، مزدور، زراعت و تجارت پیشہ غرضیکہ تم کسی جماعت سے تعلق رکھتے ہو ہم تمہیں کہتے ہیں لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ اَنْفُسِكُمْ تم میں سے کوئی یہ خیال نہ صلى الله کرے کہ محمد رسول اللہ ﷺ اس کی مشکلات نہیں جانتا۔بادشا ہو! تم یہ خیال نہ کرو کہ اس پر وہ ذمہ داریاں نہیں تھیں جو بادشاہوں سے تعلق رکھتی ہیں۔مظلومو! تم یہ خیال نہ کرو کہ وہ ہماری حالت کو کہاں سمجھ سکتا ہے۔وہ تم میں سے ہر ایک کی حالت سے خود گزر چکا ہے اور تمام ضروریات و مشکلات کو سمجھتا ہے اور سب کے احساسات سے بخوبی واقف ہے اور سب کے لئے علاج پیش کرتا ہے۔اب میں چند ایک مثالوں سے بتاتا ہوں کہ کس طرح رسول کریم ﷺ نے ہر