سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 20

سيرة النبي علي 20 جلد 3 جاتی تھیں۔عورتوں کو مارا پیٹا جاتا اور اسے خاوند کا جائز حق تصور کیا جاتا۔خاوندوں کے مرنے کے بعد عورتوں کا زبر دستی خاوند کے رشتہ داروں سے نکاح کر دیا جاتا تھایا اور کسی شخص کے پاس قیمت لے کر بیچ دیا جاتا بلکہ خاوند خود اپنی عورتوں کو بیچ ڈالتے۔پانڈوں جیسے عظیم الشان شہزادوں نے اپنی بیوی کو جوئے میں ہار دیا اور ملک کے قانون کے سامنے دروپدی 1 جیسی شریف شہزادی اُف نہ کر سکی۔بچوں کی تعلیم یا پرورش میں ماؤں کی رائے نہ لی جاتی تھی اور ان کا بچوں پر کوئی حق نہ تسلیم کیا جاتا تھا۔اگر ماں اور باپ میں جدائی واقع ہو تو بچوں کو باپ کے سپر د کیا جاتا تھا۔عورت کا گھر سے کوئی تعلق نہ سمجھا جاتا تھا نہ خاوند کی زندگی میں نہ بعد۔جب چاہتا خاوند اسے گھر سے نکال دیتا تھا اور وہ بے خانماں ہو کر اِدھر اُدھر پھرتی رہتی۔رسول کریم ﷺ کے ذریعہ سے ان سب ظلموں کو یک قلم مٹا دیا گیا۔آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے عورتوں کے حقوق کی نگہداشت خاص طور پر سپرد فرمائی ہے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اعلان کرتا ہوں کہ مرد اور عورت بلحاظ انسانیت برابر ہیں اور جب وہ مل کر کام کریں تو جس طرح مرد کو بعض حقوق عورت پر حاصل ہوتے ہیں اسی طرح عورت کو مرد پر بعض حقوق حاصل ہوتے ہیں۔عورت اسی طرح جائیداد کی مالک ہو سکتی ہے جس طرح مرد ہو سکتا ہے اور خاوند کا کوئی حق نہیں کہ عورت کے مال کو استعمال کرے جب تک کہ عورت خوشی سے بطور ہد یہ اسے کچھ نہ دے۔اس سے جبراً مال لینا یا اس طرح لینا کہ شبہ ہو کہ عورت کی حیا انکار سے مانع رہی ہے نادرست ہے۔خاوند بھی جو کچھ بطور ہدیہ اسے دے وہ عورت کا ہی مال ہوگا اور خاوند اسے واپس نہیں لے سکے گا۔وہ اپنی ماں اور اپنے باپ کے مال کی اسی طرح وارث ہو گی جس طرح کہ بیٹے اپنے ماں باپ کے وارث ہوتے ہیں۔ہاں چونکہ خاندانی ذمہ داریاں مرد پر ہوتی ہیں اور عورت پر صرف اپنی ذات کا بار ہوتا ہے اس لئے اسے مرد سے آدھا حصہ ملے گا۔اسی طرح ماں بھی اپنے بیٹے کے مال سے اسی طرح حصہ