سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 19
سيرة النبي عمال 19 جلد 3 جاتا۔خاوند کے دور دور کے رشتہ دار تو اس کی جائیداد کے وارث ہو جاتے اور وہ عورت جو اس کی محرم راز اور عمر بھر کی ساتھی ہوتی جس کی محنت اور جس کے کام کا بہت سا دخل خاوند کی کمائی میں تھا وہ اس کی جائیداد سے محروم کر دی جاتی تھی۔یا پھر وہ خاوند کی ساری ہی جائیداد کی نگران قرار دے دی جاتی لیکن وہ اس کے کسی حصہ میں تصرف سے محروم تھی۔وہ اس کی آمد کو تو خرچ کر سکتی تھی لیکن اس کے کسی حصہ کو استعمال نہیں کر سکتی تھی اور اس طرح بہت سے صدقات جاریہ میں اپنی خواہش کے مطابق حصہ لینے سے محروم رہتی تھی۔خاوند اس پر خواہ کس قدر ہی ظلم کرے وہ اس سے جدا نہیں ہو سکتی تھی یا جن قوموں میں جدا ہو سکتی تھی ایسی شرائط پر کہ بہت سی شریف عورتیں اس جدائی سے موت کو ترجیح دیتی تھیں۔مثلاً جدائی کی یہ شرط تھی کہ خاوند یا عورت کی بدکاری ثابت کی جائے اور پھر اس کے ساتھ ظلم بھی ثابت کیا جائے۔اور اس سے بڑھ کر ظلم یہ تھا کہ بہت سی صورتوں میں جب عورت کا خاوند کے ساتھ رہنا ناممکن ہوتا تھا تو اسے کامل طور پر جدا کرنے کی بجائے صرف علیحدہ رہنے کا حق دیا جاتا تھا جو خود ایک سزا ہے کیونکہ اس طرح وہ اپنی زندگی کو بے مقصد بسر کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔یا پھر یہ ہوتا تھا کہ خاوند جب چاہے عورت کو جدا کر دے لیکن عورت کو اپنی علیحدگی کا مطالبہ کرنے کا کسی صورت میں اختیار نہ تھا۔اگر خاوند اسے معلّقہ چھوڑ دیتا یا ملک چھوڑ جاتا اور خبر نہ لیتا تو عورت کو مجبور کیا جاتا کہ وہ اس کا انتظار عمر بھر کرتی رہے اور اسے اپنی عمر کو ملک اور قوم کے لئے مفید طور پر بسر کرنے کا اختیار نہ تھا۔شادی کی زندگی بجائے آرام کے اس کے لئے مصیبت بن جاتی تھی۔اس کا کام ہوتا کہ وہ خاوند اور بیوی دونوں کا کام بھی کرے اور خاوند کا انتظار بھی کرے۔خاوند کا فرض یعنی گھر کے اخراجات کے لئے کمانا بھی اس کے سپرد ہو جاتا اور عورت کی ذمہ داری کہ بچوں کی نگہداشت اور ان کی پرورش کرے یہ بھی اس کے سپر درہتا۔ایک طرف قلبی تکلیف دوسری طرف مادی ذمہ داریاں۔یہ سب اس بے کس جان کے لئے روا رکھی