سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 267

سيرة النبي عالي 267 جلد 3 کے دندان مبارک توڑ دیں حتی کہ آپ بے ہوش ہو کر گر جائیں جیسا کہ احد کی جنگ کے موقع پر ہوا۔بخدا ایسا نہیں ہو سکتا۔اگر خدا تعالیٰ نے کسی کو آسمان پر اٹھانا ہوتا تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھاتا اور اگر اس نے کسی کوصدیوں تک زندہ رکھنا ہوتا تو وہ آپ کو زندہ رکھتا۔پس نادان ہیں وہ لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت مسیح کو خدا تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا اور وہ اب تک زندہ موجود ہیں کیونکہ یہ عقیدہ نہ صرف قرآن کریم کے مخالف ہے بلکہ مسیحیت کو اس سے طاقت حاصل ہوتی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس میں بہتک ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی بھی ہتک ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نعوذ باللہ ظالم ہے کہ جو اعلیٰ سلوک کا مستحق تھا اس سے تو اس نے ادنی سلوک کیا اور جو ادنی سلوک کا مستحق تھا اس سے اس نے اعلیٰ سلوک کیا۔اسی طرح یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ زمین پر بے بس تھا تبھی تو اس نے مسیح علیہ السلام کو بچانے کیلئے آسمان پر اٹھا لیا۔حالانکہ اگر مسلمان غور کرتے تو یہ آسمان پر اٹھانے کا عقیدہ تو مسیحیوں نے اپنی نادانی سے گھڑا ہے کیونکہ محرف مبدل کتاب میں لکھا ہے کہ خدا کی بادشاہت ابھی زمین پر نہیں آئی 3۔چنانچہ مسیحی لوگ اب تک دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے خدا! جس طرح تیری بادشاہت آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر بھی ہو۔لیکن اسلام تو اس عقیدہ کو کفر قرار دیتا ہے۔وہ تو صاف الفاظ میں سکھاتا ہے کہ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ 4 آسمان اور زمین کی بادشاہت اسی کے قبضہ میں ہے۔پس اگر مسیحی یہ عقیدہ رکھیں کہ خدا تعالیٰ نے مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا تو وہ تو مجبور ہیں کیونکہ ان کے عقیدہ کی رو سے زمین پر خدا تعالیٰ کی بادشاہت نہ تھی اس وجہ سے ان کے نزدیک وہ زمین پر مسیح کی حفاظت کرنے سے بے بس ہوگا۔مگر مسلمانوں کو کیا ہوا کہ مسیحیوں کی نقل میں انہوں نے بھی خواہ مخواہ مسیح علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا دیا حالانکہ ان کے خدا کی بادشاہت تو جس طرح آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر بھی ہے۔اسے کیا ضرورت تھی کہ وہ یہودیوں سے ڈر کر اپنے نبی کو