سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 266

سيرة النبي عمال 266 جلد 3 پر زندہ رکھا ہوا ہے وہ یقیناً اس شخص سے افضل ہونا چاہئے جسے ایک معمولی سی عمر دے کر اللہ تعالیٰ نے وفات دی اور پھر جبکہ ساتھ یہ بھی مانا جائے کہ وہ صرف آپ ہی زندہ نہیں بلکہ دوسرے مردوں کو بھی زندہ کیا کرتا تھا جیسا کہ مسلمانوں میں اس وقت عام عقیدہ ہے تو پھر اس امر میں کوئی بھی شبہ نہیں رہتا کہ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ حضرت مسیح حضرت نبی کریم ع سے افضل تھے۔مگر کیا خدا تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن کریم اس عقیدہ کی تائید کرتی ہے؟ ہر گز نہیں۔قرآن کریم اس عقیدہ کو دھکے دیتا ہے اور سر تا پا اس کی تردید کرتا ہے۔وہ تو کھول کھول کر بتاتا ہے کہ رسول کریم ہ سب نبیوں کے سردار ہیں اور سب نبیوں سے یہ عہد لیا جاتا رہا ہے کہ اگر آپ کا عہد پائیں تو آپ کی مدد کریں اور تائید کریں اور آپ پر ایمان لائیں 2۔پس کس طرح ہوسکتا ہے کہ سرداری کی خلعت تو نسبتاً چھوٹے درجہ کے آدمی کو دے دی جائے اور سردار کو اس سے محروم کر دیا جائے۔اللہ تعالیٰ ظالم نہیں اگر فی الواقعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب نبیوں کے سردار ہیں اور مجھے اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جس کی جھوٹی قسم کھانی لعنتی کا کام ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً سب نبیوں اور رسولوں کے سردار ہیں اور کوئی انسان اس زمین پر نہ پیدا ہوا ہے نہ ہوگا جو آپ کے درجہ کو پہنچ سکے۔باقی سب انسان آپ سے درجہ میں کم ہیں اور خدا تعالیٰ کے قرب کا جو مقام آپ کو ملا ہے اور خدا تعالیٰ جو غیرت آپ کے لئے دکھاتا تھا وہ مقام کسی کو نہیں ملا اور وہ غیرت خدا تعالیٰ نے اور کسی کے لئے نہیں دکھائی۔مسیح کیا تھا ؟ وہ موسوی سلسلہ کے نبیوں میں سے ایک نبی تھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ کو تو موسوی سلسلہ کے سب نبی مل کر بھی نہیں پہنچ سکتے۔پھر کس طرح ہو سکتا تھا کہ خدا تعالیٰ مسیح علیہ السلام کو تو دشمنوں کے حملہ سے بچانے کے لئے آسمان پر اٹھا لیتا اور رسول کریم ﷺ کو چھوڑ دیتا کہ لوگ ان پر پتھر برسا برسا کر زخمی اور لہولہان کریں اور سنگ باری کر کے آپ