سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 17
سيرة النبي علي 17 جلد 3 ہے۔رسول کریم ﷺ کی آمد سے پہلے عورتیں ہر ملک میں غلام اور مملوک کی طرح تھیں اور ان کی غلامی مردوں پر بھی اثر ڈالے بغیر نہیں رہ سکتی تھی کیونکہ لونڈیوں کے بچے آزادی کی روح کو کامل طور پر جذب نہیں کر سکتے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیشہ سے عورت اپنی خوبصورتی یا خوب سیرتی کے زور سے بعض مردوں پر حکومت کرتی چلی آئی ہے لیکن یہ آزادی حقیقی آزادی نہ تھی کیونکہ یہ بطور حق کے حاصل نہ تھی بلکہ بطور استثنا کے تھی اور ایسی استثنائی آزادی کبھی صحیح جذبات کے پیدا کرنے کا موجب نہیں ہوسکتی۔الله رسول کریم ﷺ کی بعثت آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے ہوئی ہے اُس وقت تک کسی مذہب اور قوم میں عورت کو ایسی آزادی حاصل نہ تھی کہ اسے بطور حق کے وہ استعمال کر سکے۔بے شک بعض ملک جہاں کوئی بھی قانون نہ تھا وہ ہر قسم کی قیود سے آزاد تھے لیکن اسے بھی آزادی نہیں کہا جا سکتا، اسے آوارگی کہا جائے گا۔آزادی وہ ہے جو تمدن اور تہذیب کے قواعد کو پورا کرتے ہوئے حاصل ہو۔ان قواعد کو توڑ کر جو حالت پیدا ہو وہ آزادی نہیں کہلا سکتی کیونکہ وہ بلند ہمتی پیدا کرنے کا موجب نہیں بلکہ پست ہمتی پیدا کرنے کا موجب ہوتی ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اور اس سے قبل عورت کی یہ حالت تھی کہ وہ اپنی جائیداد کی مالک نہ تھی، اس کا خاوند اس کی جائیداد کا مالک سمجھا جاتا تھا۔اسے اس کے باپ کے مال میں سے حصہ نہ دیا جاتا تھا۔وہ اپنے خاوند کے مال کی بھی وارث نہیں سمجھی جاتی تھی گو بعض ملکوں میں اس کی حین حیات وہ اس کی متولی رہتی تھی۔اس کا نکاح جب کسی مرد سے ہو جاتا تھا تو یا تو وہ ہمیشہ کے لئے اس کی قرار دے دی جاتی تھی اور کسی صورت میں اس سے علیحدہ نہیں ہو سکتی تھی اور یا پھر اس کے خاوند کو تو اختیار ہوتا تھا کہ اسے جدا کر دے لیکن اسے اپنے خاوند سے جدا ہونے کا کوئی حق حاصل نہ تھا، خواہ اسے کس قدر ہی تکلیف کیوں نہ ہو۔خاوند اگر اس کو چھوڑ دے اور اس سے