سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 257

سيرة النبي علي 257 جلد 3 مگر جس طرف سے گزر رہا تھا ادھر سے ایک جنازہ نکلا جس پر اس کی نظر پڑ گئی۔اس نے پوچھا یہ کیا ہے؟ ساتھ والوں نے بتایا ایک انسان مر گیا ہے۔یہ اس کی لاش ہے۔یہ سن کر وہ پھر فکر میں پڑ گیا۔تیسری بار پھر جب سیر کے لئے نکلا تو ایک بڑھا دیکھا جو بہت کمزور اور ضعیف ہو چکا تھا۔اس نے جب پوچھا یہ کیا ہے تو اسے بتایا گیا کہ انسان بڑی عمر کا ہو کر اس طرح ہو جاتا ہے۔ان نظاروں کے دیکھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سمجھا اس دنیا کا آرام و آسائش سب بیچ ہے۔کوئی ایسی راہ نکالنی چاہئے کہ انسان ان دکھوں سے بچ جائے۔اس کی شادی ہو چکی تھی اور اس کے ہاں بچہ بھی پیدا ہو چکا تھا۔مگر ایک رات وہ بیوی اور بچہ کو سوتے چھوڑ کر محل سے باہر نکل گیا اور مدتوں خدا تعالیٰ کی تلاش میں پھرتا رہا۔آخر اس نے خدا تعالیٰ کو پالیا اور اس کا نام بدھ یعنی عقل مجسم ہوا۔اُس وقت اس کے ملک کے لوگوں نے اس کی صداقت بھری باتوں کا انکار کیا اور اب بھی کئی لوگ انکار کرتے ہیں۔مگر اس عارف نے جو عرب کی سرزمین میں پیدا ہوا بتا دیا اِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرُ : 11 اس انسان میں بھی خدا کا جلوہ تھا۔غرض دنیا کے ہر حصہ میں ایسے وجود ہوئے ہیں جن کو دیکھ کر ماننا پڑتا ہے کہ ان میں خدا تعالیٰ کا حسن جلوہ گر تھا اور خدا ان کے ذریعہ دنیا میں ظاہر ہوا۔مگر انسانوں کے دلوں کے بغض اور کینے ، عداوتیں اور دشمنیاں دوسری قوموں کے خدا رسیدہ لوگوں کے دیکھنے میں روک بن رہی ہیں۔ان سب روکوں کو دور کرتے ہوئے محمد علی فرماتے ہیں یہ غلط ہے کہ خدا نے صرف ہندوستان میں اپنے آپ کو ظاہر کیا یا صرف ایران میں اپنا جلوہ دکھایا بلکہ خدا ہر جگہ اور ہر ملک میں ظاہر ہوا۔ایسا عرفان کہ جہاں صلى الله خدا تعالیٰ نے اپنا جلوہ دکھا یا وہ محمد علیہ نے مکہ میں بیٹھے ہوئے دیکھ لیا۔وہ بے نظیر عرفان ہے جس کی مثال نہیں ملتی محمد ﷺ نے مکہ میں بیٹھے ہوئے دور شمال میں خدا تعالیٰ کا جلوہ دیکھا اور جنوب میں خدا تعالیٰ کے پیاروں کو پایا۔دور مشرق اور مغرب میں خدا نما انسان دیکھے اور سینکڑوں ہزاروں سال کے بعد دیکھے۔یہ ہے وہ