سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 253
سيرة النبي علي 253 جلد 3 اپنے اندر خدا تعالیٰ کا ایسا جلال دیکھتے تھے کہ سمجھتے تھے آپ پر کوئی حملہ نہیں کر سکتا۔بیسیوں واقعات ایسے پائے جاتے ہیں مگر اختصار کے لئے انہیں چھوڑتا ہوں۔اس موقع پر میں یہ بھی بتا دوں کہ ایک قسم کی دلیری کا اظہار سنگ دلی کی وجہ سے بھی بعض لوگ کر دیا کرتے ہیں۔ایک ڈاکٹر نے سنایا کہ ایک زمیندار کو آپریشن کرنے کیلئے کلور و فارم دینا چاہا تو اس نے کہا اس کی ضرورت نہیں میں یونہی آپریشن کرا لوں گا۔چنانچہ اس نے بغیر کلوروفارم کے آپریشن کرا لیا تو ایسے لوگ ہوتے ہیں جو تکلیف اور دکھ بآسانی برداشت کر لیتے ہیں مگر وہ ایسے ہی ہوتے ہیں جن میں رحمت کا مادہ نہیں ہوتا۔اس بارے میں جب ہم رسول کریم میے کے متعلق دیکھتے ہیں تو آپ کی طبیعت ایسی معلوم ہوتی ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کا آپ کی طبیعت پر بہت بڑا اثر ہوتا تھا۔حدیثوں میں آتا ہے جب کبھی زور کی آندھی یا بارش آتی تو رسول کریم ﷺہ گھبرا جاتے۔پس ایک طرف تو رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے استغناء اور صفات کو دیکھتے تو آپ کے قلب کی نرمی آندھی اور بارش آنے پر بھی ظاہر ہو جاتی اور دوسری طرف بڑی سے بڑی تکلیف کی بھی کوئی پرواہ نہ کرتے۔غرض رسول کریم ﷺ کے دل میں نرمی اور رافت تھی اور اس کثرت سے تھی کہ معمولی معمولی واقعات پر آپ کے آنسو نکل آتے تھے۔پس آپ نے مصائب اور شدائد کے مقابلہ میں جس قوت اور حوصلہ کا اظہار کیا اس کی وجہ قساوت قلبی نہ تھی بلکہ وہ عرفان الہی کا نتیجہ تھا۔صلى الله صلى الله دوسرا درجہ عرفان کا یہ ہوتا ہے کہ کامل ذاتوں میں خدا تعالیٰ کو پہچانا جائے۔یہ بھی بہت بڑا کام ہے۔دنیا میں کئی لوگ عارف ہوتے ہیں مگر ان کی پہچان اپنے تک ہی رہ جاتی ہے۔کامل عارف کی مثال تیز نظر والے کی ہوتی ہے۔ایک انسان دس گز پر کوئی چیز دیکھ سکتا ہے۔دوسرا نہیں گز پر دیکھ سکتا ہے۔کوئی سو گز پر، کوئی دو سو گز اور بعض میل میل دور سے ایک چیز کو پہچان لیتے ہیں۔ان میں سے کس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ زیادہ تیز نظر والا ہے؟ اسی کے متعلق جو زیادہ دور سے ایک چیز کو پہچان لیتا