سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 239

سيرة النبي عمال 239 جلد 3 تھے ادب واحترام کے ساتھ چاٹ لے تو دل میں گدگدیاں ہوئے بغیر نہیں رہتیں۔اُس وقت یہ شخص عداوت و استعجاب کے متضاد جذبات کا مجسمہ نظر آتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ بادل کی طرح قدرت نے آگ اور پانی ایک ہی جگہ پر جمع کر دیئے ہیں۔جب وہ حالت جاتی رہتی ہے تو پھر یہ شخص پہلے کی طرح تیراندازی میں مشغول ہو جاتا ہے۔بہت سے دشمنانِ اسلام کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ زمانہ کی پیدائش تھے۔یعنی آپ نے زمانہ کو متغیر نہیں کیا بلکہ اس زمانہ کے حالات نے آپ کے وجود کو پیدا کیا۔عرب کے لوگ اپنی حالت سے تنگ آچکے تھے۔عیسائیت ان کی ارواح کو گرما رہی تھی۔وہ ایک نئی شکل اختیار کرنے کے لئے تیار تھے۔ضرورت صرف ایک سانچے کی تھی جس میں وہ پڑ جائیں اور ڈھل جائیں۔وہ سانچہ بھی حالات زمانہ کے ماتحت آپ ہی آپ تیار ہو رہا تھا۔وہ سانچہ محمد ﷺ کی ذات تھی۔عرب کے قلوب اس میں پڑے اور ایک نئی شکل اختیار کرتے ہوئے ایک نیا نام پا کر دنیا میں پھیل گئے ، نہ محمد نے کوئی نیا قانون دنیا میں پیش کیا نہ دنیا نے ان کے ذریعہ سے کوئی نیا تغیر پیدا کیا۔میور بھی اپنی جبلی حالت کے ماتحت اسی خیال کی تائید کرتا چلا جاتا ہے۔لیکن کبھی نسیم محمدی جہالت کی سرزمین سے اس کے پاؤں اکھیڑ دیتی ہے اور وہ لرزتے ہوئے ، کانپتے ہوئے ، غوطے کھاتے ہوئے مگر بہر حال زمین سے اوپر ایک نئی دنیا میں پرواز کرنے لگتا ہے۔ایسی ہی گھڑیوں میں سے ایک گھڑی میں اس کے قلم سے یہ الفاظ نکلے ہیں :۔یہ کہنا کہ اسلام کی صورت عرب کے حالات کا ایک لازمی نتیجہ تھی ، ایسا ہی ہے جیسا کہ یہ کہنا کہ ریشم کے بار یک تاگوں میں سے آپ ہی ایک عالی شان کپڑا تیار ہو گیا ہے یا یہ کہنا کہ جنگل کی بے تراشی لکڑیوں میں سے ایک شاندار جہاز تیار ہو گیا ہے یا پھر یہ کہنا کہ کھردری چٹان کے پتھروں میں سے ایک خوبصورت محل تیار ہو گیا