سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 238
سيرة النبي علي 238 جلد 3 رسول کریم عہ ایک دشمن کی نظر میں حضرت مصلح موعود نے رسول کریم ﷺ ایک دشمن کی نظر میں“ کے عنوان پر مضمون تحریر فرمایا جو الفضل 25 اکتوبر 1930ء کے شمارہ میں شائع ہوا۔آپ تحریر صلى الله فرماتے ہیں:۔سرولیم میور کے سی۔ایس۔آئی۔جو یو۔پی کے ایک سویلین تھے اور آخر ترقی کرتے کرتے یو۔پی کے لیفٹیننٹ گورنر ہو گئے انہوں نے ایک کتاب آنحضرت عمر کے سوانح پر لکھی ہے جو اس موضوع پر مغربی لوگوں کی کتابوں میں سے اگر بہترین نہیں تو بہترین کتابوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔سرولیم میور اسلام اور بانی اسلام کے شدید ترین دشمنوں میں سے ہیں۔مسلمانوں کے ساتھ مراسم اور حکومت کے ایک ذمہ دار عہدہ پر فائز ہونے کی وجہ سے وہ اپنے قلم کو بہت حد تک روکے رکھتے ہیں لیکن ان کے متعصبانہ خیالات پھر بھی ان کی تحریر میں سے چھن چھن کر نکل ہی آتے ہیں۔رسول کریم عملے کے متعلق جو زہر انہوں نے اگلا ہے اور جو نیش زنی انہوں نے کی ہے وہ قابل تعجب نہیں کیونکہ برتن میں سے وہی ٹپکتا ہے جو کچھ اس کے اندر ہوتا ہے مگر اس امر پر حیرت ضرور ہے کہ رسول کریم ﷺ کا حسن کبھی کبھی ان کی آنکھوں میں بھی شناخت و عرفان کی ایک جھلک پیدا کر دیتا ہے اور وہ بھی اس حسن دل آویز کی دید میں محو ہوتے ہوئے نظر آنے لگتے ہیں۔مسیحیت کا یہ تیر انداز مجنونانہ طور پر آنحضرت ﷺ کی ذات پر تیر پھینکنے کے بعد جب والہا نہ رنگ میں زمین کی طرف جھکتا ہوا نظر آتا ہے کہ انہی خون کے قطروں کو جو اسی کے تیروں سے زمین پر گرے