سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 14
سيرة النبي عليه 14 جلد 3 صل الله صلى الله میں ایسے لوگ موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ پر اعتراض کرنے والوں کے خلاف آواز اٹھا ئیں مگر انہیں اس کے لئے کوئی موقع نہیں ملتا۔اب یہ جلسے ان کے الله لئے موقع ہوگا اور وہ رسول کریم ﷺ کے حالات زندگی بیان کر کے آپ کی خوبیاں ظاہر کر سکیں گے اور جتنا لطف غیر مذاہب کے لوگوں کی طرف سے رسول کریم ﷺ کی خوبیوں کے اظہار پر آئے گا اتنا اپنوں کی طرف سے اظہار پر نہ آئے گا۔ان کے لئے انعام بھی مقرر کیا گیا ہے۔احباب ان کو تیار کرنے کی کوشش کریں۔یہ بہت مفید کوشش ہوگی۔اور پھر جب ان مضامین کی کتاب چھپ جائے گی جس میں ہندوؤں، سکھوں ، عیسائیوں، یہودیوں اور پارسیوں وغیرہ کے مضامین رسول کریم ع کی شان میں ہوں گے تو وہ کتاب غیر مسلموں پر اثر ڈالنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہوگی۔مگر اس طرف ابھی تک بہت کم توجہ کی گئی ہے حالانکہ دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں۔مدراس، بمبئی ، برار کے لوگوں نے بہت ہی کم توجہ کی ہے بلکہ یو۔پی اور بہار میں بھی توجہ میں بہت کمی ہے۔بنگال کا نام میں اس لئے نہیں لیتا کہ وہاں کے دوستوں نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ اس علاقہ میں جلسے کرائیں گے۔بنگال کے احباب پنجاب اور صوبہ سرحد کے بعد عمدگی اور ہوشیاری سے کام کرنے کے لحاظ سے اپنا درجہ رکھتے ہیں اس لئے گو انہیں خود توجہ ہے مگر میں پھر کہوں گا وہ اپنی طرف سے پوری کوشش جاری رکھیں۔پنجاب اور صوبہ سرحد کے احباب اگر چہ بہت جوش اور سرگرمی سے کام لے رہے ہیں لیکن چونکہ سب سے بڑی ذمہ داری انہی پر ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پنجاب میں پیدا ہوئے اور جس وقت آپ کی پیدائش ہوئی اُس وقت صوبہ سرحد پنجاب سے جدا نہ تھا بلکہ پنجاب کے ساتھ ہی تھا اس علاقہ کو اب بھی ہم پنجاب سے جدا نہیں سمجھتے اس لئے پنجاب کے ساتھ ہی صوبہ سرحد کے دوستوں کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔چونکہ وقت بہت کم رہ گیا ہے اس لئے دوست اس بات کا انتظار نہ کریں کہ اس بارے میں اور اعلان کئے جائیں گے اور ان کو پڑھ کر وہ کوشش کریں گے۔وہ