سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 226
سيرة النبي علي 226 جلد 3 صلى الله مصائب و تکالیف میں کوہ وقار خطبہ جمعہ فرمودہ 7 مارچ 1930 ء میں حضرت مصلح موعود رسول کریم ﷺ کے مصائب اور تکالیف میں عزم و استقامت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔" رسول کریم مے کو بھی تکالیف پیش آئیں۔آپ پر ایسے ایسے مصائب آئے کہ آج کوئی انسان انہیں پڑھ کر اپنے آنسو نہیں روک سکتا لیکن با وجود اس کے کہ آپ سید ولد آدم تھے ، خاتم النبین تھے ، تمام نبیوں کے سردار تھے اور باوجود اس کے کہ آپ اللہ تعالیٰ کو اس قدر پیارے تھے کہ اس نے اپنی محبت کو آپ میں مرکوز کر دیا اور فرما دیا اِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله 1۔اور اپنی محبت کے تمام دروازے بند کر دیے سوائے اس کے جو محمد ع میں سے ہو کر آتا تھا۔مگر آپ کو مصیبت پر مصیبت آئی، فاقہ پر فاقے ہوئے ، آپ نے اپنے محبوبوں اور عزیزوں کو بھوک پیاس سے اپنے سامنے تڑپتے دیکھا، تین سال تک محصور رہے، جہاں کھانے کے لئے کچھ نہیں ملتا اور درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرتے تھے۔ایک صحابی کہتے ہیں ہمیں آٹھ آٹھ دن پاخانہ نہیں آتا تھا اور جب آتا تھا تو بکری کی مینگنیوں کی طرح کا آتا کیونکہ کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا اور ہم درختوں کے پتے کھاتے تھے 2۔یہ حالت تین سال تک رہی۔پھر اس کے معاً بعد عزیز ترین وجود آپ سے جدا ہو گیا یعنی آپ کی محبوب اور غمگسار بیوی فوت ہو گئیں۔پھر اور تکالیف آ ئیں اور اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو لمبا کرتا گیا کیونکہ وہ دنیا کو دکھانا چاہتا تھا کہ اس کا سب سے زیادہ محبوب اس کے لئے