سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 225
سيرة النبي عليه 225 جلد 3 بھی کرنی پڑے گی۔اور یہ ماننا پڑے گا کہ نَعُوذُ بِاللَّهِ امت محمدیہ میں اب کوئی صدیق ، شہید اور صالح بھی نہیں بن سکتا۔لیکن اگر صالحیت ، شہادت اور صدیقیت کا مقام حاصل ہو سکتا ہے تو پھر نبوت کا انعام بھی حاصل ہوسکتا ہے۔لیکن اس پر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن کریم کا کوئی لفظ حکمت کے بغیر نہیں ہے تو پھر یہاں مع کا لفظ لانے کی کیا ضرورت تھی۔جیسا کہ دوسری جگہ مَعَ الَّذِينَ نہیں رکھا بلکہ صرف یہ فرمایا کہ وہ صدیق اور شہید ہوں گے اسی طرح یہاں بھی کہا جا سکتا تھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مع رکھ کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اس رسول کی اطاعت کرنے والے صرف صدیق ہی نہیں ہوں گے بلکہ سب امتوں کے صدیقوں کی خوبیاں ان میں آجائیں گی۔صرف شہید ہی نہیں ہوں گے بلکہ پہلے سب شہیدوں کی صفات کے جامع ہوں گے۔صرف صالح ہی نہیں ہوں گے بلکہ پہلے صالحین کی سب خوبیاں اپنے اندر رکھتے ہوں گے۔اسی طرح جو نبی آئے گا وہ پہلے سب نبیوں کی خوبیوں اور کمالات کا بھی جامع ہو گا۔پس مع نے رسول کریم ﷺ کی اطاعت کے نتیجہ کو بڑھا دیا ہے گھٹایا نہیں اور بتایا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے جو مرتبہ 66 حاصل ہوتا ہے وہ پہلے لوگوں کے مراتب سے بہت اعلیٰ اور ارفع ہے۔“ 1: النساء: 70 فضائل القرآن نمبر 2 صفحہ 118 ، 119 ناشر الشركة الاسلامیہ ربوہ 1963ء)