سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 224

سيرة النبي علي 224 جلد 3 رسول کریم ﷺ کی اتباع کی برکات 29 دسمبر 1929ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔ج ” جہاں رسول کریم ﷺ کا ذکر کیا وہاں فرمایا وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَبِكَ رَفِيقًا : یعنی وہ لوگ جو اللہ اور اس رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر خدا تعالیٰ کے انعامات نازل ہوئے یعنی نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحین میں۔گویا پہلے نبیوں کی اطاعت سے تو صرف صدیق اور شہداء بنتے تھے مگر اس نبی کی اطاعت سے نبوت کا درجہ بھی حاصل ہو سکتا ہے۔حضرت داؤڈ اور حضرت عیسی نے یہ نہیں کہا کہ ہمیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اتباع سے نبوت ملی ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات پر زور دیا اور بار بار اس کا اعلان کیا کہ مجھے محض رسول کریم ﷺ کی غلامی میں درجہ نبوت حاصل ہوا ہے۔انبیاء اور صدیقین وغیرہ کی معیت کا مفہوم بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ یہاں مَعَ الَّذِينَ آیا ہے جس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ اور اس رسول کی اطاعت سے کوئی نبی بن سکتا ہے بلکہ یہ ہے کہ قیامت کے دن اسے انبیاء کی معیت حاصل ہو گی۔اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ اگر نبی بننے کی نفی کی جائے گی تو اس کے ساتھ ہی صدیق ، شہید اور صالح بننے کی نفی