سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 222
سيرة النبي علي 222 جلد 3 پہلی وحی میں تو راۃ کی پیشگوئی کی طرف اشارہ 29 دسمبر 1929ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبَّكَ الَّذِي خَلَقَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ - اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِى عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَالَمُ يَعْلَمُ 1- ان چند آیات میں پہلے تاریخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ فرمایا اقرا بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ۔پڑھ اس کلام کو۔مگر جب پڑھنے لگو تو یہ کہہ لینا کہ میں اللہ کا نام لے کر اسے پڑھتا ہوں۔اس میں استثناء باب 18 کی آیت 18، 19 کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ:۔میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی بر پا کروں گا۔اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا۔اور ایسا ہو گا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گا تو 66 میں اس کا حساب اس سے لوں گا۔“ پس بِاسْمِ رَبِّک میں موسٹی کی اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ کے مثیل موسی ہونے کا دعویٰ پیش کیا گیا ہے اور نبوت کے تسلسل کا ذکر کیا گیا فضائل القرآن نمبر 2 صفحہ 75 ناشر الشركة الاسلامیہ ربوہ 1963ء) ہے۔1: العلق : 2 تا 6 2: استثناء باب 18 آیت 18 ، 19 پاکستان بائبل سوسائٹی انار کلی لا ہور مطبوعہ 2011ء