سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 13
سيرة النبي علي 13 جلد 3 جائے اس میں اتنی قابلیت ہو کہ جلسہ کا انتظام کر سکے۔لوگوں کی توجہ لیکچروں کی طرف قائم رکھ سکے اور تقریروں پر مفید طور پر تنقید کر سکے۔اس وجہ سے ابھی سے ایسے لوگوں کا انتخاب شروع کر دینا چاہئے۔اسی طرح جلسہ کی جگہ کے لئے بھی ابھی سے انتظام کرنا چاہئے۔کئی دفعہ خیال کر لیا جاتا ہے کہ فلاں جگہ مل جائے گی اور وہاں جلسہ کر لیں گے مگر دریافت کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اُس دن کسی اور وجہ سے رکی ہوئی ہو گی۔اس طرح عین موقع پر بہت مشکل پیش آتی ہے۔پس اگر کسی جگہ کسی ہال میں جلسہ کرنے کی تجویز ہو تو ابھی سے اس تاریخ کے لئے ہال کا انتظام کر لینا چاہئے۔اور اگر کسی کھلی جگہ جلسہ کرنا ہو تو اس کے لئے بھی ابھی سے اجازت وغیرہ حاصل کر لینی چاہئے۔ورنہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ وقت پر جگہ کا انتظام نہیں ہوسکتا اور پھر کہا جاتا ہے چلو مسجد وغیرہ میں جلسہ کر لیں اور اس طرح جلسہ کی اصل غرض حاصل نہیں ہو سکتی۔اسی طرح اشتہار، اعلان اور ڈھنڈورہ کے متعلق بھی ابھی سے تیاری کرنی چاہئے۔پھر یہ بھی ایک دوست کی تحریک ہے جس کی میں نے تصدیق کی ہے کہ جن کے مضامین اعلیٰ رہیں گے ان کو انعام میں سند اور تمغہ دیا جائے گا۔اس کے لئے غیر مسلم لوگوں میں تحریک کرنی چاہئے اور ان کو مضمون تیار کرنے کے لئے کہنا چاہئے۔اس وقت تک اس طرف بہت کم توجہ کی گئی ہے۔اس کے متعلق درجن ڈیڑھ درجن کے قریب نام آئے ہیں جنہوں نے مضمون لکھنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے مگر یہ بہت تھوڑی تعداد ہے۔برہمو سماج والے جب اپنے لیڈر کی پیدائش کا دن مناتے ہیں تو دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی لیکچر دینے کے لئے بلا لیتے اور ان سے لیکچر دلاتے ہیں۔اگر مسلمان کوشش کریں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ رسول کریم علی جیسے انسان کے متعلق لیکچر دینے کے لئے دوسرے مذاہب کے لوگ تیار نہ ہو جائیں۔اس کام کے لئے اچھے سے اچھے لیکچرار تیار ہو سکتے ہیں۔بات یہ ہے کہ ہر قوم میں شریف ہوتے ہیں جو اپنی شرافت کے اظہار کے لئے موقع ڈھونڈتے ہیں۔اسی طرح ہندوؤں اور عیسائیوں