سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 12

سيرة النبي عمال 12 جلد 3 ضرورت ہے ایسے احباب کی جو اس بات کا ذمہ لیں کہ وہ ایک ایک یا دو دو یا تین تین گاؤں میں جلسے کرائیں گے۔اور ان کو اس کے لئے بعض ترکیبوں سے کام لینا چاہئے۔مثلاً انہیں ایسے اصحاب کو جلسہ کے لئے صدر تجویز کر لینا چاہئے جن کے صدر ہونے میں لوگوں کو دلچسپی ہو۔اور لوگوں کو کسی کے متعلق دلچپسی مختلف چیزوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔رسول کریم ﷺ کی شان کے اظہار کے لئے جو جلسے ہوں ان میں مسلمانوں کو بغیر اس خیال کے کہ کون پریذیڈنٹ ہوتا ہے یا کون نہیں ہوتا شریک ہونا چاہئے مگر افسوس ہے تعلیم کی کمی کی وجہ سے ابھی مسلمانوں میں یہ بات نہیں پائی جاتی اور سارے لوگ ایسے نہیں ہوں گے جو ان جلسوں میں پوری پوری دلچسپی لے کر اور شوق کا اظہار کر کے دنیا کو بتا دیں کہ ہم رسول کریم ﷺ کے ایسی فدائی ہیں کہ دنیا ہمیں کسی طرح بھی آپ سے جدا نہیں کر سکتی۔اس لئے ضرورت ہے کہ لوگوں کو ان جلسوں کی اہمیت بتانے کی کوشش کی جائے۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ کثرت سے کسی بات کے متعلق اشتہار دیئے جائیں تو اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں بار بار جو اس کے لئے بلایا جاتا ہے تو ضرور اس میں کوئی بات ہو گی۔ایسے لوگ محض اعلان ، ڈھنڈورہ اور اشتہارات سے متاثر ہو کر آ جاتے ہیں۔پھر کئی اس طرح متاثر ہوتے ہیں کہ اس چیز کی خوبی انہیں بتائی جائے اس کے لئے ضروری ہے کہ 17 جون کے جلسہ سے قبل مختلف محلوں اور مختلف موقعوں پر جلسے کر کے لوگوں کو بتایا جائے کہ کتنے عظیم الشان فوائد اس جلسہ سے مرتب ہو سکتے ہیں۔اس کے لئے وہ خطبے سنائے جائیں جو میں نے اس بارے میں پڑھے ہیں۔پھر عام لوگوں کو بڑے آدمیوں سے تعلق ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس جلسہ کی صدارت کے لئے ایسے آدمی تجویز کئے جائیں جنہیں لوگوں میں رسوخ اور اثر حاصل ہو ، لوگوں کو ان سے محبت ہو اور وہ لوگوں کے کام آنے والے ، ان کو فوائد پہنچانے والے اور ان سے وابستگی رکھنے والے ہوں۔مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ جسے صدارت کے لئے چنا