سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 201
سيرة النبي علي 201 جلد 3 رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کے دوزمانے 16 اگست 1929ء کو سفر کشمیر کے دوران یاڑی پورہ کشمیر میں بعد نماز ظہر وعصر حضرت مصلح موعود نے ایک تقریر فرمائی۔اس تقریر میں رسول کریم ﷺ کی سیرت کا درج ذیل الفاظ میں ذکر فر مایا :۔وو الله رسول کریم عمل ہے جب مبعوث ہوئے تو عرب میں کوکوئی بادشاہ نہیں تھا مگر ہر علاقہ میں بڑے بڑے لوگ تھے جو اپنے اپنے علاقہ پر حکومت کرتے تھے۔مدینہ میں، طائف میں ، حضرموت میں، یمن وغیرہ میں غرض ہر علاقہ میں رئیس تھے۔جب آپ نے نبوت کا پیغام پہنچایا تو آپ کی باتوں میں کوئی ایسی بات نہ تھی جو بری ہو۔آپ نے ایک بات بھی ایسی نہ کہی جس سے مخالفین یہ نتیجہ نکالتے کہ یہ شخص اپنی بڑائی چاہتا ہے اور ہمیں گرانا چاہتا ہے۔اگر رسول کریم ﷺ نے نماز کا حکم دیا تو اس میں آپ کا کوئی ذاتی فائدہ نہ تھا، سراسر دوسروں کا ہی فائدہ تھا۔اگر آپ نے حقیقی مالک کو راضی کرنے کی تعلیم دی تو جو لوگ اس تعلیم پر چلتے اور اللہ تعالیٰ کو راضی کر لیتے ان کی اپنی ذاتوں کو ہی فائدہ پہنچتا رسول کریم کو کیا فائدہ ہوتا۔اگر رسول کریم ﷺ نے زکوۃ دینے کا حکم دیا تو اس میں بھی لوگوں کا ہی فائدہ تھا نہ کہ آپ کا۔آپ نے تو سیدوں کو زکوۃ لینے سے منع کر دیا حالانکہ سیدوں میں بھی غریب ہوتے ہیں۔تو نہ صرف آپ زکوۃ کے مال سے مجتنب رہے بلکہ اپنی اولاد کے لئے بھی فرما گئے کہ ان کے لئے زکوۃ کا مال جائز نہیں 1۔اسی طرح رسول کریم ﷺ نے جھوٹ بولنے سے منع فرمایا۔اس میں آپ کو کیا