سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 192
سيرة النبي عمال صل الله 192 جلد 3 پابندی نہیں، یونہی اس پر حملہ نہیں کر دینا چاہئے۔چنانچہ ابوسفیان جب مکہ سے آیا اور آ کر اس نے کہا اب میں نئے سرے سے عہد کرتا ہوں تو اس موقع پر اگر رسول کریم خاموش رہتے تو اچانک حملہ کر سکتے تھے مگر آپ نے فرمایا ابوسفیان ! تم نے یہ اعلان کیا ہے میں نے نہیں کیا اور اس طرح بتا دیا کہ ہم حملہ کریں گے۔اس کے مقابلہ میں آج کل کیا ہوتا ہے؟ یہ کہ جب کسی پر حملہ کرنا ہوتا ہے تو اس قسم کے اعلان کئے جاتے ہیں کہ فلاں حکومت سے ہمارے بڑے اچھے تعلقات ہیں۔پیچھے اٹلی نے جب ترکی پر حملہ کیا تو اس حملہ سے تین دن قبل یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ترکی کے ساتھ ہمارے آج کل ایسے اچھے تعلقات ہیں جیسے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔یہ اس لئے تھا تا کہ تر کی بالکل غافل رہے۔مگر ابوسفیان نے جب اعلان کیا اُس وقت رسول کریم علی خاموش رہتے تو آپ پر کوئی ذمہ داری عائد نہ ہوتی تھی۔مگر آپ خاموش نہ رہے اور فرما دیا یہ تمہارا اعلان ہے ، ہمارا نہیں۔اس طرح ان کو بتا دیا کہ ہم حملہ کریں گے۔آٹھویں آپ نے یہ تعلیم دی کہ مسلم اور غیر مسلم کے تمدنی حقوق ایک قرار دیئے۔یہ بات صرف رسول کریم ﷺ نے قائم کی جو آپ سے پہلے نہ تھی۔یہودیوں کو یہ حکم تھا کہ تم اپنے بھائیوں یعنی یہودیوں سے سود نہ لو دوسروں سے لے لیا کرو۔مگر رسول کریم علیہ نے فرمایا سود نہ یہودیوں سے لو، نہ عیسائیوں سے، نہ مسلمانوں سے، غرض کسی سے بھی سود نہ لو۔سب سے ایک سلوک کرنے کا حکم دیا۔اس طرح الله رسول کریم ﷺ نے تمدنی سلوک کے بارے میں مسلم اور غیر مسلم کو ایک قرار دیا۔نویں تعلیم یہ دی کہ غلاموں کی آزادی میں بھی مسلم اور غیر مسلم کا امتیاز نہیں رکھا۔کہا جائے گا قرآن میں مسلمان غلام آزاد کرنے کا حکم آتا ہے۔مگر یہ حکم اسی موقع کے لئے ہے جہاں مسلمانوں کو نقصان اور صدمہ پہنچا ہو ورنہ عام طور پر سب غلاموں کی آزادی کا آپ نے حکم دیا۔جنگ حنین کے موقع پر سینکڑوں غلام جو پکڑے آئے باوجود اس کے کہ وہ دشمن تھے انہیں آپ نے آزاد کر دیا۔