سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 187
سيرة النبي علي 187 جلد 3 میاں ! تمہیں لڈو کھانا آتا ہے؟ اس نے کہا یہ کونسی مشکل بات ہے۔لڈو اٹھایا اور منہ میں ڈال لیا۔انہوں نے فرمایا نہیں یہ کھانے کا طریق نہیں، کسی دن لڈو آئے تو تمہیں بتائیں گے کس طرح کھانا چاہئے۔ایک دن کسی نے لڈو لا کر پیش کئے تو انہوں نے شاگرد کو بلا کر پاس بٹھا لیا اور ایک لڈو اٹھا کر رومال پر رکھ لیا۔اس سے ایک تھوڑا سا ٹکڑا تو ڑا اور کہنا شروع کیا میاں غلام علی ! ( یہ ان کے شاگرد کا نام تھا) تمہیں پتہ ہے اس لڈو کی تیاری کیلئے خدا تعالیٰ نے کتنے سامان پیدا کئے ؟ اس میں تھی پڑا، میٹھا پڑا، میدہ پڑا اور کتنی چیزیں پڑیں۔پھر ان چیزوں کی تیاری میں کتنے سامان کئے گئے اور یہ سب کچھ اس لئے کیا گیا کہ مظہر جان جاناں ایک لڈو کھائے۔آگے ان کی تشریح کرنی شروع کر دی۔ساتھ ساتھ ہر بات پر محویت میں سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ کہتے جاتے تھے۔اس میں ظہر سے عصر کی نماز کا وقت ہو گیا اور اٹھ کر نماز پڑھنے چلے گئے۔غرض کوئی چیز دنیا کی ایسی نہیں جو خود بخود بغیر کسی دوسری چیز کے سہارے کے قائم ہو۔ہر ایک کا ایک سلسلہ چلتا ہے۔ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے لئے بیسیوں سامان پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔اگر بچہ پیدا کرنے والا کوئی اور خدا ہو اور اس کی ضروریات پیدا کرنے والا کوئی اور تو پھر بچہ کے لئے اس کی ضروریات کا کس طرح انتظام ہوتا۔بچہ کی پیدائش سے بھی پہلے اس کی ضروریات کا انتظام موجود ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی خدا ہے جو بچہ کو پیدا کرنے والا اور اس کے لئے انتظام کرنے والا ہے۔اسی طرح سب جگہ ایک ہی انتظام اور ایک ہی قانون جاری ہے جو خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرتا ہے۔اور بھی بیسیوں دلائل ہیں لیکن انہیں میں اس وقت چھوڑتا ہوں۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ نے توحید کی اشاعت کے لئے کیا کیا۔اس کے لئے بھی صرف ایک بات پیش کرتا ہوں۔آپ سے لوگوں کی ساری دشمنی تو حید ہی کے پھیلانے کی وجہ سے تھی۔ایک دفعہ کفار نے آپ کو کہلا بھیجا اگر مال