سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 167
سيرة النبي عمال 167 جلد 3 عالمگیر شریعت آپ نے دنیا کے سامنے یہ ایک نیا طریق پیش کیا کہ شریعت عالمگیر ہونی چاہئے اور اس میں مختلف طبائع اور مختلف طاقتوں کا لحاظ رکھا جانا چاہئے۔جو کتاب کہ مختلف طبائع اور مختلف طاقتوں کا لحاظ نہیں کرتی وہ گویا دنیا کے ایک حصہ کو نجات پانے سے بالکل محروم کر دیتی ہے اور اس طرح خود اس غرض کو معدوم کر دیتی ہے جس کے لئے اسے دنیا میں بھیجا گیا تھا۔شریعت کے دو اہم امور تیسرا اصل کتاب کی تعلیم میں آپ نے یہ مدنظر رکھا کہ شریعت کے لئے ضروری ہے کہ وہ دو اہم ضرورتوں کو پورا کرے۔ایک طرف تو اس میں ان تمام ضروری امور کے متعلق ہدایت ہو جن کا مذہبی ، روحانی اور اخلاقی ترقی کے ساتھ تعلق ہے اور دوسری طرف انسان کی ذہنی ترقی کے لئے اس میں گنجائش ہو اور وہ انسانی دماغ کو بالکل جامد بنا کر اس میں سڑاندھ نہ پیدا کر دے۔ان دو اصول کے ماتحت آپ نے ان دو خطرناک راستوں کو بند کر دیا جو حقیقی روحانیت کو تباہ کرنے کا باعث بن جایا کرتے ہیں یعنی اباحت کے راستہ کو بھی جو انسان کے روحانی مفاد کو مادی لذات کی قربان گاہ پر قربان کروا دیا کرتا ہے اور تقلید جامد کے راستہ کو بھی جو انسانی دماغ کو ایک سڑے ہوئے تالاب کی طرح بنا کران بد بوؤں کا مرکز بنا دیتا ہے جو نشو ونما کی تمام قابلیتوں کو جلا کر رکھ دیتی ہیں۔نبی کا تیسرا کام تعلیم حکمت تیرا کام نبی کا تعلیم حکمت ہے۔رسول کریم ہ نے اس کام میں بھی ایک بے نظیر مثال قائم کی ہے۔آپ ہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے باوجود خدا تعالیٰ کی عظمت اور قدرت کے بے نظیر اظہار کے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قادر ہونے کے یہ معنی نہیں کہ وہ جو چاہے حکم دے اور کسی کو اس کی وجہ دریافت کرنے کی مجال نہ ہو۔وہ اگر قادر ہے تو غنی بھی ہے، کسی حکم میں خود اس کا اپنا فائدہ مدنظر نہیں ہوتا۔اور پھر وہ حکیم بھی ہے وہ کوئی حکم نہیں دیتا جس میں کہ کوئی حکمت نہ ہو۔پس کسی تعلیم کے خدا تعالیٰ کی