سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 164
سيرة النبي عمال 164 جلد 3 خدا تعالیٰ کو تمام مادی قیدوں اور ظہوروں اور جلووں سے پاک ثابت کرتے ہیں اور اس کی توحید پر اس قدر زور دیتے ہیں کہ تمام آلائشوں اور نقصوں سے اسے پاک قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف اس کی محبت اور اپنی مخلوق کو اعلیٰ درجہ کے مقامات تک پہنچانے کی خواہش کو ایسے واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ انسانی دل محبت سے بھر جاتا ہے اور عقل مطمئن ہو جاتی ہے مگر آپ اسی پر بس نہیں کرتے آپ اس اصل کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ وہ امور جن پر ایمان لانا انسان کی نجات کے لئے ضروری ہو ان پر ایمان لانے کی بنیا د صرف عقلی دلیل پر نہیں ہونی چاہئے بلکہ مشاہدہ پر ہونی چاہئے تا کہ دل شک وشبہ کے احتمال سے بھی پاک ہو جائے اور آپ اس امر پر زور دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفات اس کے خاص بندوں کے لئے ایسے خاص رنگ میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں کہ ان کے معجزانہ ظہور کو دیکھ کر انسان کا دل یقین کی آخری کیفیات سے لبریز ہو جاتا ہے۔ملائکہ کی حقیقت ملائکہ کے متعلق جہاں ایک طرف آپ نے ان لوگوں کے خیالات کو رد کیا ہے جو ان کے وجود ہی کے منکر ہیں وہاں ان لوگوں کے خیالات کو بھی رد کیا ہے جو انہیں بادشاہی درباریوں کی حیثیت میں پیش کرتے ہیں۔اور بتایا ہے کہ ملائکہ نظام عالم کے روحانی اور جسمانی سلسلہ میں اسی طرح ضروری وجود ہیں کہ جس طرح دوسرے نظر آنے والے اسباب۔وہ ایک مادی خدا کے دربار کی رونق نہیں ہیں بلکہ ایک غیر مادی خدا کے احکام تکوین کی پہلی کڑیاں ہیں اور روحانی اور جسمانی سلسلے پوری طرح ان پر قائم ہیں اور جس طرح بنیاد کے بغیر عمارت نہیں ہو سکتی اسی طرح ملائکہ کے بغیر کائنات کا وجود ناممکن ہے۔قانون قدرت کیا ہے؟ آپ نے قانون قدرت کو ایسا قریب الفہم کر دیا کہ مادی علل و اسباب کا دیکھنے والا سائنس دان اور عقلی موجبات کی موشگافی کرنے والا فلسفی اور روحانی اثرات پر نگہ رکھنے والا صوفی اور