سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 130
سيرة النبي عمال 130 جلد 3 سخت زخمی ہوئے ، ان کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور ہڈیاں چور چور ہو گئیں ان کا ایک رشتہ دار بہت تلاش کے بعد اُن تک پہنچا اُس وقت ان کی زندگی کے صرف چند منٹ باقی تھے۔رشتہ دار نے چاہا کہ ان کی زندگی کو بچانے کے لئے کچھ مدد کرے لیکن انہوں نے کہا کہ اب مدد کا موقع نہیں میرے پاس آؤ۔جب وہ پاس گیا تو اس کا ہاتھ صلى اللهم اپنے ہاتھ میں لے کر کہا میں تمہارے ہاتھ کو رسول کریم ﷺ کا ہاتھ فرض کرتا ہوں اور اس سے مصافحہ کرتا ہوں تم رسول کریم ﷺ کو میرا سلام پہنچا دینا اور میں تم سے عہد لیتا ہوں کہ میرے تمام رشتہ داروں سے کہہ دینا میں مر رہا ہوں مگر دنیا کی سب سے قیمتی چیز یعنی محمد رسول اللہ کو تم میں چھوڑے جاتا ہوں۔تمہیں خواہ کتنی ہی قربانیاں کرنی پڑیں کسی حالت میں بھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑنا اور ہر طرح آپ کی حفاظت کرنا 1۔ظاہر ہے کہ جب ایسے لوگوں نے اس صحابی کے منہ سے بدلہ لینے کے الفاظ سنے ہوں گے تو انہیں کس قدر جوش آیا ہو گا۔اُن کی تلواریں میانوں سے تڑپ تڑپ کر باہر آ رہی الله ہوں گی اور وہ چاہتے ہوں گے کہ اس کی بوٹی بوٹی اڑا دیں مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا لو تم بھی مجھے کہنی مار لو۔اس صحابی نے عرض کیا يَا رَسُولَ الله ! اُس وقت جب آپ کی گہنی مجھے لگی میرا جسم نگا تھا۔اس پر آپ نے اپنا کرتا اٹھا کر اپنا جسم نگا کر دیا۔وہ صحابی جھکا اور نہایت ادب سے اُس مقام پر بوسہ دیا اور کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میں چاہتا تھا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاؤں اور حضور کے مظہر جسم کو بوسہ دے کر برکت حاصل کروں 2 لیکن یہ بات تو اس کے دل میں تھی رسول کریم ﷺ کو تو اس کا کوئی علم نہ تھا۔آپ تو یہی سمجھتے تھے کہ یہ مجھے کہنی مارنا چاہتا ہے اور آپ نے اسی لئے اپنا جسم بھی ننگا کر دیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کسی ایسی بات کو قیامت پر اٹھا رکھنا نہیں چاہتے تھے۔اور میں سمجھتا ہوں اگر ہمارے مخالفوں میں ایسا اخلاص بلکہ اس کا ہزارواں حصہ بھی موجود ہوتا تو یہ جھگڑا کبھی پیدا ہی نہ ہوتا اور اب بھی اگر وہ اس فیصلہ