سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 129
سيرة النبي علي 129 جلد 3 رسول کریم ﷺ کا محاسبہ نفس حضرت مصلح موعود 18 جنوری 1929ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔در حقیقت کسی انسان کا دل دکھانا ایک بہت بڑا جرم ہے اور رسول کریم صلی اللہ الوسة نے بھی ایسے معاملہ میں معافی مانگنے سے پر ہیز نہیں کیا۔جب آپ فوت ہونے لگے تو صحابہ سے فرمایا اگر کسی کو مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو اسے چاہئے کہ یہیں بدلہ لے لے۔غور کرو یہ کتنی بڑی قربانی ہے۔آپ خاتم النبین تھے اور آپ کی وہ شان تھی کہ صحابہ آپ کے ایک ایک لفظ کو خدا تعالیٰ کے تصرف کے ماتحت سمجھتے تھے۔پس اگر رسول کریم ﷺ جیسا انسان اس علوشان کے باوجود اس امر کے لئے تیار ہوتا ہے کہ پنی غلطی کا اعتراف کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم لوگ اس کے لئے تیار نہ ہوں۔چلتے ہوئے کسی کو ہماری ٹھوکر لگ جاتی ہے اور ہم اُس وقت کیا آسانی سے کہہ دیتے ہیں معاف کیجئے۔پس جب چلتے چلتے ہم ذرا سی ٹھوکر پر معافی مانگ لیتے ہیں تو جب معافی مانگنے سے سینکڑوں لوگوں میں اختلاف مٹ سکتا ہو اس کے لئے ہم کیوں تیار نہ ہوں۔میں نے رسول کریم ﷺ کی مثال دی ہے اور اپنی وفات کے موقع پر آپ نے فرمایا اگر کسی کو مجھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو بتا دے اور بدلہ لے لے۔اس پر ایک صحابی نے كبايَا رَسُولَ الله ! مجھے آپ سے ایک تکلیف پہنچی ہوئی ہے اور میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔ایک جنگ کے موقع پر آپ لشکر کی صف بندی کر رہے تھے اور کسی ضرورت سے آپ کو صف چیر کر نکلنا پڑا اور آپ کی کہنی مجھے لگی۔وہ لوگ جنہیں رسول کریم ﷺ سے عشق تھا اور جن کے عشق کی ایک ادنیٰ مثال یہ ہے کہ ایک صحابی جنگِ اُحد میں بہت صلى الله