سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 111

سيرة النبي علي 111 جلد 3 رسول کریم ع ل ل ل لله بهترین داعی الی الله حضرت مصلح موعود 27 جولا ئی 1928ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :۔قُلْ هُذِهِ سَبِيلِ اَدْعُوا إِلَى اللهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَ سُبْحْنَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ 1۔اس کے بعد فرمایا رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ اس آیت میں دو امور کا اعلان کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے۔گویا صلى الله رسول کریم ﷺ کا دعوی دو نہایت چھوٹے سے جملوں میں بیان فرماتا ہے اور دنیا کو اس کی طرف توجہ دلاتا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ پہلی آیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے قُلْ هَذِهِ سَبِیلی کہہ دے یہ جو کچھ پہلے بیان ہوا ہے یہ میرا طریق اور راستہ ہے۔چونکہ ہر انسان لمبے مضمون سے نتیجہ نکالنے کے قابل نہیں ہوتا اور جہاں بات کو وضاحت کے ساتھ بیان کرنے کے لئے تفصیل کی ضرورت ہوتی ہے وہاں تھوڑی عقل اور محدود سمجھ والوں کے لئے اجمال کی بھی ضرورت ہوتی ہے اس لئے پہلی آیات کے بعد فرمایا هذِهِ سَبِیلی وہ رستہ جس کی طرف پہلے اشارہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اَدْعُوا اِلَی اللہ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔تو رسول کریم۔فرمایا کہہ دے میرا یہ راستہ ہے جو پہلے بیان ہوا ہے۔وہ یہ ہے کہ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔سَبِیلی کہہ کر پہلی بات یہ بیان کی کہ میں اس رستہ پر عامل ہوں۔صرف یہ نہیں کہ لوگوں کو اس کی طرف بلاتا ہوں بلکہ خود بھی اس پر عمل کرتا ہوں۔پہلی چیز ایک مدعی کے لئے یہ ہوتی ہے کہ جس بات پر عمل کرنے کے لئے دوسروں سے کہتا ہو پہلے خود اس پر عامل ہو۔اگر ایک شخص لوگوں کو ایک بات کی طرف بلاتا ہے مگر خود اس