سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 104
سيرة النبي علي 104 جلد 3 نظیر کسی جگہ نہیں مل سکتی۔آپ دنیا میں خالی ہاتھ آئے، باوجود بادشاہ ہونے کے خالی ہاتھ رہے اور خالی ہاتھ چلے گئے۔زندگی میں تو دیتے ہی رہے وفات پانے کے بعد بھی سب کچھ لوگوں کو دے گئے۔یعنی آپ کے بعد دوسرے لوگ تخت خلافت پر متمکن ہوئے۔اللّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى خُلَفَاءِ مُحَمَّدٍ وَبَارِک وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - نصیحت یہ وہ وجود ہے جسے آج دنیا برا بھلا کہتی ہے اور جس کے روشن وجود کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ تمام مذاہب کے سنجیدہ اور شریف آدمی آنحضرت ﷺ کے احسانات اور قربانیوں اور پاکبازیوں کا علم حاصل کر کے آپ کا ادب کرنا سیکھیں گے اور آپ کو بنی نوع انسان کا محسن سمجھ کر آپ کو اپنا ہی سمجھیں گے جس طرح کہ وہ اپنے قومی نبیوں کو سمجھتے ہیں۔اور مسلمان آپ کی زندگی کے حالات معلوم کر کے آپ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں گے اور اس عظیم الشان نعمت کی جو خدا تعالیٰ نے انہیں دی ہے ناشکری نہیں کریں گے۔اور دین کی طرف سے بے توجہی کی بجائے دین کے احکام پر عمل کرنے کی اور عیش وعشرت کی بجائے قربانی اور دنیا کے لئے مفید بننے کی پوری کوشش کریں گے۔اللہ تعالیٰ انہیں اس امر کی توفیق دے۔وَ آخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 1: الانعام: 163، 164 دنیا کا محسن ناشر بکڈ پوتالیف واشاعت قادیان) 2 نائیڈو سروجنی (1879ء - 1949 ء ) شاعرہ اور سیاستدان۔حیدر آباد دکن میں بارہ سال کی عمر میں میٹرک کیا۔بعد میں کیمبرج میں تعلیم پائی۔بچپن سے انگریزی میں نظمیں لکھنی شروع کیں۔ہندوستانی موضوعات پر رومانی اسلوب میں انگریزی نظمیں لکھ کر انگریزی ادب میں نمایاں شاعرہ کا لوہا منوالیا۔ہندوستان کی جدو جہد آزادی میں قومی خدمتگار کی حیثیت سے مشہور تھی۔مہاتما گاندھی کے ساتھ عدم تعاون کی تحریک سے وابستہ ہوئی اور ملک کی سیاست سے گہرا تعلق قائم کیا۔کئی دفعہ قید